خدارا!! اسے محدود کیجیے

idara letterhead universal2c

خدارا!! اسے محدود کیجیے

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد

موجودہ ترقی یافتہ دور کی جدید ایجادات جہاں سہولت اور ترقی کا ذریعہ ہیں وہیں ان میں سے کئی ایک اپنی فتنہ سامانیوں کی وجہ سے انسانیت کے لیے اور بالخصوص اہل اسلام کے لیے ایک عظیم آزمائش بن گئی ہیں۔ ان ایجادات میں سے ایک اسمارٹ فون بھی ہے، جو اگر چہ اس دور میں بہت سی سہولیات کا ذریعہ بھی بن رہا ہے لیکن اثمھما اکبر من نفعھما کے بمصداق ہماری حیات مستعار کے قیمتی اوقات نہایت بے دردی سے برباد کر رہا ہے اور بہت سے دینی ودنیوی نقصانات کا سبب بھی ہے۔ کتنے ہی ہنستے بستے گھرانے اس کی وجہ سے بکھر گئے، کتنے ہی مرد اور خواتین اسلام کے نہایت مبارک رشتہ ازواج میں منسلک ہونے کے بعد اسمارٹ فون کی بدولت اپنی پُر عافیت خانگی زندگی سے محروم ہوکر عبرت ناک حالات سے دوچار ہوئے کتنے ہی باعفت لوگوں کے دامن اس کی وجہ سے داغ دار ہوئے، کتنے ہی حاملینِ علم وفضل اس کی بدولت علمِ نافع سے محروم ہوئے، کتنے ہی تہجد گزار اور تقویٰ وپرہیز گاری سے آراستہ اپنی راتیں سسکیوں، دعاوٴں اور عبادت کے بجائے غفلت اور معاصی میں بسر کرنے لگے۔

جی ہاں بہت سے شرفاء اس کی نحوست سے قبائے حیاء سے محروم ہوئے، رب سے راز ونیاز اور مناجات کے لیے خلوت گزیں افراد موبائل استعمال کرنے کے لیے گوشہٴ تنہائی کے متلاشی دکھائی دینے لگے، شرافت ومروت اور سماجی ومعاشرتی تعلقات اپنی اہمیت کھو چکے ، وہ عزت ماب ومقدس خواتین جن کا سایہ بھی کسی غیر محرم نے نہ دیکھا تھا سمارٹ فون کی وجہ سے ان کی تصاویر باپردہ مجالس سے نکل کر فساق وفجار کی ہوس ناک نگا ہوں کا نشانہ بننے لگیں۔ موبائل اور سوشل میڈیا کے دام تزویر میں آکر کتنے ہی اصحاب علم وفضل اپنے جبہ ودستار کی لاج نہ رکھ سکے اور بہت سے واعظینِ ملت اپنا تقدس کھو کر اپنے قول کی تاثیر سے محروم ہوئے، مصلحین امت اور مقتدایان قوم اس کی خطرناکیوں اور مفاسد سے آگاہ کرتے کرتے عاجزہوگئے لیکن اس کے نقصانات سے امت کو پوری طرح نہ بچا سکے۔

غرض موبائل کی عادت آج ایک نشے کی لت بن چکی ہے اور گویا آج کے انسان نے موبائل فون کو اپنا جز وبدن قرار دے دیا ہے، اس کی حالت نشے کے عادی شخص کی مانند ہو چکی ہے،جو اپنی پراگندگی وبد حالی، صحت کی تباہی اور مستقبل کی تاریکی کوکھلی آنکھوں دیکھتا ہے۔ اپنے نا مساعد حالات کا رونا روتا ہے۔ اپنے نقصان سے خائف رہتا ہے لیکن اس فتنہ کے سحر سے نکلنے اور اس کی عادت کو چھوڑنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ حتی کہ مساجد ومدارس کا مقدس ماحول گانے، باجے اور موسیقی کی آواز سے مکدّر ہونے لگا ہے اور افسوس یہ ہے کہ اب اس کی سنگینی کا احساس بھی دلوں سے ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔

آخر کب تک اس ناقابل تلافی خسارے پر صبر کیا جائے گا اگر ہم نے اس پر اب بھی قابو نہ پایا تو اندیشہ ہے کہ پانی سر سے نہ گزر جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ ایسے شخص کو قریب رکھ سکتے ہیں جو آپ کا بد خواہ ہو؟ کیا آپ ایسے آدمی کو اپنا ہم نشین بنا سکتے ہیں کہ زمانے کی بے شمار معاشرتی خرابیوں کا ذمہ دار اورمجرم وہی ہو؟ یقینا نہیں، کیا کوئی باشعور نوجوان ایسے شخص کو اپنا ہم درد قرار دے سکتا ہے جو اس کے روشن اور تابناک مستقبل سے خائف اور نالاں ہو؟ کیا کوئی خاتون کسی ایسی عورت کو اپنا خیر خواہ سمجھ سکتی ہے کہ جسے اس کا بسا ہوا گھر ایک آنکھ نہ بھاتا ہو؟ ہر گز نہیں۔ لہٰذا عقل وشعور کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی قوتِ ارادی کو بھرپور استعمال کرتے ہوئے اس فتنے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جائے۔ اپنی قیمتی زندگی کے بے بدل اوقات کو بچا کر انہیں تعمیری کاموں اور دنیا اور آخرت کے لیے مفید سرگرمیوں میں لگایا جائے، ہماری انفرادی اور اجتماعی فلاح وبہبود کے لیے یہ ضروری ہے کہ موبائل فون کو مثبت امور تک محدود رکھنے کی پوری پابندی کی جائے اورچوں کہ لا یعنی سرگرمیوں میں لگنا بالآخر ناجائز امور میں مبتلا ہونے کا سبب بن جاتا ہے اس لیے اس کے استعمال کو محتاط سے محتاط تر بنایا جائے، غرض اسے بااعتماد اور راز داں دوست سمجھنے کے بجائے ہر وقت اس کے شر سے محتاط رہا جائے اللہ تعالیٰ سے اہتمام کے ساتھ دعا بھی کی جائے کہ ہمیں ان جدید آلات کی خیرعطا فرمائیں اور ان کے نقصانات سے محفوظ فرمائیں، اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!

سنگ میل سے متعلق