بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نصیحت کی پانچ باتیں

نصیحت کی پانچ باتیں

عبید اللہ خالد

حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم خاتم الانبیاء والرسل ہیں، الله تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو بہت زیادہ خصوصیات وامتیازات سے سرفراز فرمایا، ان میں آپ کی ایک خصوصیت، جو دیگر انبیاء سے آپ کو ممتاز کرتی ہے، آپ کے فرمودات کا جوامع الکلم ہوناہے کہ الله تعالیٰ نے آپ کی زبان مبارک سے حکمت وموعظت سے بھرپور ایسے کلمات کہلوائے، جو الفاظ کے اعتبار سے نہایت مختصر او رمعنی ومفہوم کے اعتبار سے نہایت جامع ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو مختلف مواقع پر نصائح فرمائیں، جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون شخص ہے جو مجھ سے پانچ باتوں کو سیکھے اور پھر ان پر عمل کرے، یا اس شخص کو سکھائے جو ان پر عمل کرنے والا ہو،(حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر) میں نے عرض کیا کہ یا رسول الله! وہ شخص میں ہوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور وہ پانچ باتیں گنوائیں اور (ان کو اس طرح) بیان فرمایا کہ تم ان چیزوں سے بچو، جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، اگر تم ان سے بچو گے تو تم لوگوں میں (الله تعالیٰ کے) سب سے زیادہ عبادت گزار بندے ہو گے، تم اس چیز پر راضی وشاکر رہو جس کو الله تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں لکھ دیا ہے، اگر تم تقدیر الہی پر راضی ومطمئن رہو گے تو تمہارا شمار تو نگر ترین لوگوں میں ہو گا، تم اپنے ہمسایہ سے اچھا سلوک کرو (اگرچہ وہ تمہارے ساتھ بُرا سلوک کرے) اگر تم ایسا کرو گے تو تم کامل مؤمن سمجھے جاؤ گے، تم ( دنیا وآخرت کی بھلائیوں سے متعلق) جس چیز کو اپنے لیے پسند کرتے ہو اس کو دوسرے سب لوگوں کے لیے پسند کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو تم کامل مسلمان سمجھے جاؤ گے، اور تم زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو، کیوں کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ ( اور خدا کی یاد سے غافل) بنا دیتا ہے۔
”محارم“ کے مفہوم میں ہر طرح کی ممنوع چیزوں کا ارتکاب او رجن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ان کا ترک شامل ہے ، محارم سے بچنے کا مطلب یہ ہو گا کہ نہ صرف ممنوع اور حرام چیزوں سے اجتناب کرو بلکہ شریعت نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے ان کے ترک سے بھی اجتناب کرو۔ محارم سے اجتناب کرنے والے کو سب سے زیادہ عبادت گزار بندہ اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ محارم سے اجتناب کرنا گویا ان فرائض سے عہدہ برآہونا ہے جو الله تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عائد کیے ہیں،ظاہر ہے کہ فرائض کو پورا کرنے سے افضل کوئی عبادت نہیں، جب کہ عام لوگ فرائض کو ترک کر دیتے ہیں یا ان کی طرف کم توجہ دیتے ہیں اور کثرت نوافل میں مشغول رہتے ہیں اور اس طرح وہ گویا اصول اور بنیاد کو تو ضائع کر دیتے ہیں اور فروعات وفضائل کو اختیار کرتے ہیں۔
تقدیر الہی پر راضی ومطمئن ہونا اور اپنے مقسوم پر صابر وشاکر رہنا، بڑا اونچا مقام ومرتبہ ہے، جس شخص کو یہ مقام نصیب ہو جاتا ہے وہ حرص وطمع سے پاک رہتا ہے، زیادہ طلبی سے اپنا دامن بچاتا ہے اور قلبی استغناء وتونگری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتا۔ ایک شخص نے شیخ ابوالحسن شاذلی رحمة الله علیہ سے کیمیا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب د یا کہ کیمیا دو باتوں میں پوشیدہ ہے، ایک تو یہ کہ تم مخلوق کو نظر سے گرادو، یعنی غیر الله کو حاجت روا اور مشکل کُشا ئی کے قابل نہ سمجھو اور الله تعالیٰ کے سوا کسی اور سے اپنی حاجت کو وابستہ نہ کرو۔
الله تعالیٰ ہمیں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ اور حکمت وموعظت سے بھرپور جوامع الکلم پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!