دنیوی اسباب کی تأثیر کے لیے نسخہٴ اِکسیر

idara letterhead universal2c

دنیوی اسباب کی تأثیر کے لیے نسخہٴ اِکسیر

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد

قطر پر اسرائیل کے حالیہ حملوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب اہل باطل کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب مکمل طور پر زائل ہوچکا ہے اور انہیں اہل اسلام سے کوئی خوف درپیش نہیں، کفار جان چکے ہیں کہ اس زمانے میں اسلامی ملکوں کے شمشیر وسناں یا تو محض نمائشوں کی زینت ہیں یا برائے فروخت، اس تازہ جارحیت کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ اب نہ تو کسی کی موروثی شرافت کی لاج رکھی جائے گی اور نہ ہی کسی کے صلح کل رہنے کی پالیسی کا لحاظ کیا جائے گا۔

قطر میں اسلامی ممالک کے سربراہان اس معاملے میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں، اظہار تشویش بھی ہے اور تجدید عزم بھی، یہ ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اب نیٹوافواج کے طرز پر مسلم دنیا بھی ایک اتحادی فوج تیار کرے گی، اگر چہ اس موقع پر بھی اجلاس میں شریک کئی نمائندوں کی ترجیح یہی محسوس ہوتی ہے کہ اپنی رائے اور ایمانی جذبات کے اظہار میں الفاظ کا چناوٴ نہایت محتاط اور بے ضرر ہو اور عالمی کفریہ طاقتوں کی نظروں میں آنے کے بجائے گوشہٴ عافیت کی بقاء کو پیش نظر رکھا جائے، لیکن ان سب کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ضرور ہے کہ اس اتحاد اور اجتماع کی برکت سے کوئی مضبوط دفاعی پالیسی سامنے آئے جو منھ زور اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کو لگام دے سکے۔

دوسری طرف تقریبًا چوالیس ممالک سے تعلق رکھنے والے جذبہٴ انسانیت سے سرشار لوگوں کا ایک قابل رشک وتقلید بحری قافلہ ”صمود فلو ٹیلا“ غزہ کی جانب رواں دواں ہے، ان کا مقصد غزہ کے عوام کی امداد اور دل جوئی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے، انجام کار سے بے پرواہ ان لوگوں میں اکثریت غیر مسلموں کی ہے، جو ایمان سے محروم ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی کے جذبہ کے تحت ظلم وبربریت کے اس محاصرے کو توڑنے کے لیے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

موجودہ حالات میں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یقین یہہونا چاہیے کہ عالم اسلام کی متحدہ افواج کا قیام ہو یا اہل غزہ کی امداد کے لیے قافلہ کی روانگی ، ملک میں سیلاب اور زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امدادی کار روائیاں ہوں یا مختلف حوادث اور شرورو فتن سے بچاوٴ کے لیے پیشگی کیے جانے والے حفاظتی اقدامات اور منصوبہ بندی، یہ سب دنیوی اسباب ہیں، جن کا اختیار کرنا اگر چہ ضروری ہے لیکن ان اسباب کے موٴثر ہونے کی بنیاد احکم الحاکمین کا ارادہ اور مشیت ہے۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، تعلق مع اللہ کو مضبوط بنائیں، ساری امت کی فلاح وبہبود کے لیے لمبی لمبی دعائیں مانگیں، تمام ظاہری وباطنی گناہوں سے پرہیز کرنے کا نیا عزم کریں اور توبہ واستغفار کو اپنا معمول بنائیں، جو غیر مسلم اِس بحری قافلہ میں شامل ہیں، ان کے لیے دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیک مقاصد میں کامیاب فرمائیں، اس عمل کی برکت سے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمائیں، اسی طرح مسلم حکمرانوں کے لیے ہمت وتوفیق اور صلاح واہلیت کی دعا مانگیں، کیا بعید ہے کہ ان اعمال کے طفیل اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہو، پورے عالم میں اسلام کا بول بولا ہو اور اللہ تعالیٰ کا دین ہر کچے پکے گھر میں داخل ہوجائے۔ وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز
رحمتِ حق بہا نمی جوید
رحمت حق بہانہ می جوید

(اللہ تعالیٰ کی رحمت بندوں سے کسی قیمت کی طلب گار نہیں، وہ تو محض بہانہ ڈھونڈتی ہے)

سنگ میل سے متعلق