
لفظ ”نور“ کا مصداق کیا ہے؟
آیت کریمہ میں ہے ﴿قَدْ جَاءَ کُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَکِتَابٌ مُبینٌ﴾ اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے پاس نور اور واضح کتاب آئی ہے۔ کتاب سے قرآن کریم مراد ہے، البتہ نور کی تفسیر میں متفرق اقوال ہیں۔
پہلا قول: نور سے قرآن کریم مراد ہے
جس طرح کتاب سے قرآن کریم مراد ہے، اسی طرح سے نور سے بھی قرآن کریم مراد ہے، جو شرک وکفر کے اندھیروں سے توحید اور ایمان کی روشنی سے شناسا کراتا ہے۔ کِتَابٌ مُبینٌ کا لفظ ”نورٌ“ کے لیے عطف تفسیری ہے۔
علامہ شہاب الدین احمد خفاجی لکھتے ہیں:
”نور اور کتاب دونوں کی مراد ایک ہی ہے، قرآن کریم کو نور اس لیے کہا گیا کہ یہ ہدایت اور ایقان کے طریقوں کو ظاہر فرماتا ہے“۔ (عنایة القاضي: 3/226)
امام رازی رحمة اللہ علیہ نے یہ قول نقل کر کے اسے ضعیف قرار دیا ہے، کیوں کہ عطف تغایر کا تقاضا کرتا ہے؛ اس لیے نور اور کتاب کا مصداق الگ الگ ہونا چاہیے۔ (تفسیر کبیر للرازي، المائدة، ذیل آیت: 15)
لیکن یہ شبہ قوی نہیں ہے، کیوں کہ عطف تفسیری کے لیے تغایر ضروری نہیں ہے، نیز اگر معطوف علیہ اور معطوف میں تغایر کو ضروری قرار دیا جائے تو اس کے لیے لفظی تغایر بھی کافی ہے۔
علامہ ابو اللیث سمرقندی نے اپنی تفسیر میں نور اور کتاب کا مصداق ایک ہی چیز قرآن کریم قرار دینے کے بعد اس کی تفسیر میں فرمایا: ”قرآن کریم کو نور اس لیے فرمایا گیا کہ قرآن کریم دلوں میں نور کی طرح آتا ہے“۔ (تفسیر بحر العلوم، المائدة، ذیل آیت: 15)
دوسرا قول: نور سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں
معروف مفسر علامہ طبری رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے اہل تورات اور اہل انجیل کو خطاب کر کے فرمایا تمہارے پاس نور اور واضح کتاب آگئی ہے، نور سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں، جنہوں نے حق کو روشن اور اسلام کو غالب کیا اور کفر کو مٹایا، اسی نور کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ امور بیان فرمادیتے تھے جسے یہود چھپاتے تھے“۔ (جامع البیان، طبری، المائدة، ذیل آیت: 15)
علامہ قرطبی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”نور سے حضور علیہ السلام مراد ہیں“۔(الجامع لأحکام القرآن، القرطبي، المائدہ، ذیل آیت: 15)
علامہ آلوسی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:
﴿قَدْ جَاءَ کُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ﴾ عظیم، وہو نور الانوار والنبی المختار صلی اللّٰہ علیہ وسلم وإلی ہذا ذہب قتادة واختارہ الزجاج ․․․․ وما علی الأول فھو ظاہرٌ․ (روح المعاني، المائدہ، ذیل آیت: 15)
”اس نور سے عظیم نور مراد ہے، جو تمام نوروں کا نور ہے اور پسندیدہ نبی (کی ذات گرامی) ہے۔ اسی مذہب کی طرف قتادہ گئے ہیں اور اسی قول کو زجاج نے پسند کیا ہے۔ … اور یہی پہلا قول ہی ظاہر (درست) ہے“۔
نور کے مصداق پر یہی دو قول اہل علم میں معروف ہیں، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، مگر محققین نے انہیں قابل توجہ نہیں گردانا۔
آپ علیہ السلام کو کس اعتبار سے نور کہا گیا؟
جن مفسرین نے آپعلیہ السلام کو ”نور“ کا مصداق قرار دیا ہے انہوں نے آپ کو نور دو وجہ سے کہا: نور ہدایت، نور حسیّہ۔
۱- نور ہدایت
نور ہدایت کا مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی ذات گرامی انسانیت کے لیے ہدایت بن کر آئی، انسانیت کو توحید کے نور سے آگاہ کیا۔ علامہ شہاب الدین احمد خفاجی نے فرماتے ہیں:
”دوسری تفسیر جس میں آپ کو نور کا مصداق ٹھہرایا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام اپنے معجزات کی وجہ سے (نور کی طرح) ظاہر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق کو ظاہر کرنے والے تھے“۔ (عنایة القاضي المعروف حاشیة الشہاب، المائدة، ذیل آیت: 15)
ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے شرح الشفاء میں فرمایا:
”آپ علیہ السلام پر نور کا اطلاق کیا گیا، کیوں کہ آپ اندھیروں سے نور کی طرف رہ نمائی فرماتے ہیں“۔ (شرح الشفا للملا علي القاري: 2/127)
علامہ طبری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:
”الذي أنار اللّٰہ بہ الحق، وأظہر بہ الاسلام ومحق بہ الشرک“․
آپ علیہ السلام ایسا نور ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالی نے حق کو روشن کیا اور اس کے ذریعے اسلام کو غالب کیا اور شرک کو مٹا یا۔ تفسیر مدارک التنزیل، تفسیر خازن، تفسیر مظہری اور دیگر تفاسیر میں جہاں آپ کو نور قرار دیا گیا اس کی توجیہ یہی بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہدایت ہیں۔ قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کی صفت ہدایت کو جا بجا بیان کیا گیا ہے۔ مثلا:
1 – ﴿لقد مَنّ اللّٰہ علی الموٴمنین إذ بعث فیھم رسولًا من انفسہم یتلو علیھم اٰیٰتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتب والحکمة﴾․ (اٰل عمران: 164)
(اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر، جو بھیجا ان میں رسول انہیں میں کا، پڑھتا ہے ان پر آیتیں اس کی اور پاک کرتا ہے ان کو (یعنی شرک وغیرہ سے) اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور کام کی بات)۔
2 – ﴿یأیھا النبي إنا ارسلناک شاہدًا ومبشرا ونذیراl وداعیا إلی اللّٰہ بإذنہ وسراجًا منیرًا﴾․ ( الاحزاب: 45، 46)
(اے نبی! ہم نے تجھ کو بھیجا بتانے والا اور خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا، اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چمکتا ہوا چراغ)۔
3 – ﴿وأنزلنا إلیک الذکر لتبین للناس ما نزّل إلیہم﴾․ (النحل: 44)
(اور اتاری ہم نے تجھ پر یہ یاداشت کہ تو کھول دے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو اتری ان کے واسطے)
اس طرح کی تمام آیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہدایت کو واضح کرتی ہیں۔
2- نور حسیّہ
بعض اہل علم نے ”نور“ کا مصداق آپ علیہ السلام کو ٹھہرا کر آپ کو حسی طور پر نور قرار دیا ہے کہ آپ علیہ السلام کا وجود مبارک حسی طور پر بھی روشن تھا۔ اگر نور سے روشن وجود مبارک مراد لیا جائے تب بھی یہ بشریت کے منافی نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن وجودِ مبارکہ سے کسی مومن کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔
1- حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی شخص کو نہ سخی دیکھا، نہ بہادر، نہ روشن چہرے والا“۔( سنن الدارمی، رقم الحدیث: 59)
2- ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے ربیع بنت معوذ بن عفراء سے عرض کیا: ہمارے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! اگر تم آپ علیہ السلام کو دیکھ لیتے تو طلوع ہونے والے آفتاب کو دیکھتے“۔ (سنن الدارمی، رقم الحدیث: 60)
3- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دخل علیہا مسرورًا تبرق أساریرُ وجھہ․ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 3362)
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ان کے پاس ایسی خوشی کی کیفیت میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مبارک کے نقوش سے نور پھوٹ رہا تھا“۔
4- حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
وکان رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا سُرَّ استنارَ وجھہ حتی کانہ قطعة قمر، وکنا نعرف ذالک منہ․ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 3363)
اور آپ علیہ السلام جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ مبارک اس طرح روشن ہوجاتا گویا کہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اسی سے آپ کی خوشی کو جان لیتے۔
۵۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا آپ علیہ السلام کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح (چمک دار) تھا؟ انہوں نے فرمایا: لا، بل مثل القمر․ نہیں، بلکہ چاند کی طرح روشن تھا“۔ (جامع الترمذي: رقم الحدیث: 3636)
اس طرح کی متعدد روایات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسی نور کو عیاں کرتی ہیں، لیکن یہ حسی نور بشریت کے منافی نہیں ہے۔
بشریتِ انبیاء علیہم السلام کا انکار کفر ہے
آپ علیہ السلام کی بشریت نصوص قطعیہ سے ثابت ہے، اس کا انکار نص قرآنی کے انکار ہونے کی وجہ سے کفر ہے ، آپ علیہ السلام نے حکم خداوندی سے اپنی بشریت کا اعلان فرما کر شان بشریت کو دوبالا فرمایا: ﴿قل سبحان ربّي ہل کنتُ إلا بشرًا رّسولًا﴾․ (بني اسرائیل: 93)
اگر بشریت کا لفظ خلاف ادب ہوتا تو اللہ تعالی آپ u کو اس لفظ کے استعمال کا مکلف نہ بناتے۔
دوسرے مقام پر ارشاد ہوا: ﴿قل إنّما أنا بشرٌ مثلکم یوحٰی إلیّ أنّما الہکم الہ واحد﴾․ (الکھف: 110)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت پر تمام اہل ایمان کا اتفاق ہے اور اس میں بھی اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افضل البشر ہیں، فتاوی رضویہ میں مولوی احمد رضا خان نے لکھا ہے: ”اور جو مطلقًا حضور سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے۔“ (فتاوی رضویہ 2/ 67، مکتبة رضویہ کراچی)
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صفات کی وجہ سے سراپا نور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپ کے اقوال وافعال، چال ڈھال، اٹھنا بیٹھنا، خوش ہونا، ناراض ہونا، کھانا پینا، سب باعث ہدایت اور انسانیت کے لیے نمونہ اور اسوہ ہے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے اعتبار سے افضل البشر ہیں۔
﴿لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ قُلْ فَمَن یَمْلِکُ مِنَ اللّہِ شَیْْئاً إِنْ أَرَادَ أَن یُہْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَأُمَّہُ وَمَن فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً وَلِلّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْْنَہُمَا یَخْلُقُ مَا یَشَاء ُوَاللّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْرٌ(17) وَقَالَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی نَحْنُ أَبْنَاء اللّہِ وَأَحِبَّاؤُہُ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُم بِذُنُوبِکُم بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ یَغْفِرُ لِمَن یَشَاء ُ وَیُعَذِّبُ مَن یَشَاءُ وَلِلّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْْنَہُمَا وَإِلَیْْہِ الْمَصِیْرُ(18) یَا أَہْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَاء کُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلَی فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ أَن تَقُولُواْ مَا جَاء نَا مِن بَشِیْرٍ وَلاَ نَذِیْرٍ فَقَدْ جَاء کُم بَشِیْرٌ وَنَذِیْرٌ وَاللّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْرٌ(19)﴾
بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ تو وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا، تو کہہ دے پھر کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ چاہے ہلاک کرے مسیح مریم کے بیٹے کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ ہیں زمین میں سب کو اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمینوں کی اور جو کچھ درمیان ان دونوں کے ہے، پیدا کرتا ہے جو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہےl اور کہتے ہیں یہود اور نصاری ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، تو پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر؟ کوئی نہیں، بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو اس کی مخلوق میں، بخشے جس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہےl اے کتاب والو! آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا، کھولتا ہے تم پر رسولوں کے انقطاع کے بعد، کبھی تم کہنے لگو کہ ہمارے پاس نہ آیا کوئی خوشی یا ڈر سنانے والا، سو آچکا تمہارے پاس خوشی اور ڈر سنانے والا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہےl۔
الوہیت مسیح کا عقیدہ رکھنا کفر ہے
تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ دعوت توحید کی تھی، انہوں نے اپنی امت میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور وحدانیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
﴿وَمَا أرسلنا من قبلک من رسول إلا نوحی إلیہ أنہ لا إلہ إلّا أنا فاعبدون﴾․ (الانبیاء: 25)
اس لیے تمام آسمانی مذاہب کے دعوے دار توحید کی بنیاد پر قائم ہیں، حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکار جنہیں یہود کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک گروہ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو ابن اللہ کہہ کر شرک کا ارتکاب کیا تھا۔ گو عصر حاضر کے یہودی علماء اپنی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں اللہ وحدہ لا شریک کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔
حضرت عیسی علیہ السلام کے پیروکار بھی عقیدہ توحید کا اقرار کرتے ہیں اور شرک کو کفر سمجھتے ہیں، مگر ان کا عقیدہ الوہیت مسیح، ابنیّت مسیح، تثلیث مسیح کی صورت میں ظاہر میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان کے شرکیہ عقیدہ پر ضرب لگا کر ان کے کفر کو واضح فرمایا۔
1۔ ایک گروہ کا عقیدہ تثلیث مسیحیت کا ہے، ان کے نزدیک الوہیت تین اقانیم کا مجموعہ ہے، جو خدا (جسے یہ بیٹا کہتے ہیں) اور روح القدس پر مشتمل ہے (بعض فرقوں نے روح القدس کی جگہ حضرت مریم علیہا السلام کو الوہیت کا تیسرا اقنوم قرار دیا ہے)۔ یہ تینوں الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جدا بھی نہیں۔ باپ، بیٹا، روح القدس میں سے ہر ایک خدا ہے، مگر یہ تین نہیں، بلکہ ایک ہیں۔ مسیحی دنیا کی معتمد کتاب ”قاموس الکتاب“ میں اس عقیدے کی وضاحت یوں کی گئی ہے ”خدا واحد ہے، اس کی ذات میں تین اقانیم کی کثرت ہے، جو بمنزلہ محل صفات ہیں، جو جوہر، قدرت، ازلیت میں برابر اور ذات وصفات میں متحد مگر فعل میں متمائز ہیں“۔ (قاموس الکتاب، خیر اللہ، ایف ایس ص: 234، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور)
اس وقت غالب مسیحی فرقوں کا عقیدہ یہ ہے، اس خلاف عقل عقیدہ کی وجہ سے مسیحی ہمیشہ اضطرابی کیفیت میں رہتے ہیں، ایک ایک نہیں بلکہ تین ہیں اور تین تین نہیں بلکہ ایک ہے، اس گورکھ دھندے کی وجہ سے یہ عقیدہ توحیدی سمجھنے اور سمجھانے سے ماوریٰ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس عقیدہ کو کفر قرار دیتے ہوئے برے انجام کی خبر دی ہے۔ ﴿لقد کفر الذین قالوا إن اللہ ثالث ثلثة وما من الہ إلا الہ واحد وإن لم ینتھوا عمّا یقولون لیمسن الذین کفروا منہم عذاب ألیم﴾․(المائدة:74) (بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ لیے تین میں کا ایک، حالاں کہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے اور اگر باز نہ آئیں گے اس بات سے تو بے شک پہنچے گا ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو عذاب درد ناک۔)
2۔ ایک گروہ کا عقیدہ ابنیّت مسیح کا ہے کہ حضرت عیسی مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے، اللہ تعالی نے اس کی بھی تردیدی فرمائی۔ ﴿وقالت الیھود عُزیز ابن اللّٰہ وقالت النصاری المسیح ابن اللّٰہ ذلک قولہم بأفواہہم، یُضَاھِئُوْنَ قول الذین کفروا من قبل قٰتَلَہُم اللّٰہ أنی یوٴفکون﴾․(التوبہ: 30) (اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاری نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منھ سے ریس کرنے لگے اگلے کافروں کی بات کی، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں پھرے جاتے ہیں؟)
3۔ ایک گروہ کا عقیدہ الوہیت مسیح کا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خود اللہ تعالیٰ ہیں اور انسانی لباس میں دنیا میں تشریف لائے تھے، سورت مائدہ کی آیت میں اس عقیدے کو بھی کفر قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لقد کفر الذین قالوا إن اللّٰہ ہو المسیح ابن مریم﴾․
اس گروہ نے یوں نہیں کہا کہ مسیح اللہ ہے، بلکہ مبالغہ کے طور پر اس سے بڑھ کر یوں کہا ”اللہ ہی تو مسیح ابن مریم ہے“۔ آیت کریمہ میں اس عقیدے کو کفر فرما کر اس کی تردید کی گئی ہے۔ اور حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کی عاجزی درماندگی کو بیان کر کے ان کی بندگی کو واضح کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالی حضرت عیسی علیہ السلام کو، ان کی والدہ کو، بلکہ روئے زمین پر موجود تمام لوگوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمالیں تو کوئی ذات اللہ تعالیٰ کو ان کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتی، نہ حضرت عیسی مسیح علیہ السلام، نہ حضرت مریم، نہ روئے زمین کا کوئی فرد۔ یہیں سے ان کا عاجز ہونا ثابت ہوتا ہے اور جو عاجز ہو، قدرت نہ رکھتا ہو، وہ الوہیت کے مقام پر کیسے فائز ہوسکتا ہے؟ (جاری ہے)