حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

idara letterhead universal2c

حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

مولانا ابو اسامہ شیخو پوری

نسب اور خاندان

ہندوستان میں مسلمانوں کی حکم رانی سے قبل راجہ بھیم نے ضلع مظفر نگر میں ایک قصبہ اپنے نام سے بسایا، جو ”تھانہ بھیم“ کہلایا۔ پھر مسلمانوں کی آمد وسکونت پر اس کا نام ”محمد پور“ ہوا، جس کا ثبوت اس وقت کے شاہی کاغذات سے ملتا ہے۔ مگر یہ نام مقبول ومشہور نہ ہوا اور وہی پُرانا نام معروف رہا، البتہ تھانہ بھیم سے تھانہ بھون ہو گیا۔ صوبہ جات متحدہ آگرہ واودھ کا یہ قصبہ اپنی مردم خیزی میں مشہور چلا آرہا ہے اور یہاں کے مسلمان شرفاء اہل شوکت وقوت اور صاحبِ فضل وکمال رہے ہیں۔

مجدّد الملت شاہ اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ کے اجداد نے آج سے صدیوں پہلے اسی قصبہ تھانہ بھون میں طرح اقامت ڈالی تھی، ددھیال کے اجداد نسباً فاروقی تھے، ان میں ایک مولانا صدر الدین جہاں تھے (جو قاضی محمد نصر اللہ خان کے ہمعصر ہیں اور جن کا ذکر عہد اکبری کے کاغذات میں ملتا ہے) ان کے قریبی اجداد تھانیسر ضلع کرنال سے نقل سکونت کر کے تھانہ بھون آئے تھے اور اسی طرح ننھیالی اجداد نے (جو علوی تھے) پہلے پہل جنجھا نے میں سکونت اختیار کی تھی اور پھر یہاں آگئے تھے۔

مجدّد الملت کے والد ماجد شیخ عبد الحق صاحب مرحوم ایک مقتدر رئیس، صاحبِ نقد وجائداد اور ایک کشادہ دست انسان تھے۔ میرٹھ کی ایک بڑی ریاست کے مختار عام تھے۔ فارسی میں اعلی استعداد کے مالک تھے اور حافظِ قرآن تو نہ تھے، لیکن ناظرہ بہت قوی تھا اور قرآن مجید بہت صحت سے پڑھتے تھے۔ ذہنی اعتبار سے بڑے ہی صاحبِ فراست تھے، جس کا ایک کھلا ثبوت یہ ہے کہ اپنے صاحب زادوں کی استعداد وصلاحیت کو بچپن میں تاڑ گئے تھے۔ اور اسی بنا پر اپنے فرزند اکبر (یعنی مجدّد الملّت) کو عربی ودینیات میں اور فرزندِ اصغر (اکبر علی صاحب مرحوم) کو انگریزی اور علومِ دنیوی میں لگا دیا تھا اور اس پر مرحوم کو پورا پورا اعتماد تھا۔ ایک مرتبہ مرحوم کی بھاوج صاحبہ نے فرمایا بھائی! تم نے چھوٹے کو تو انگریزی پڑھائی ہے، وہ تو خیر کمائے گا اور بڑا عربی پڑھ رہا ہے، وہ کہاں سے کھائے گا اور اس کا گزارہ کس طرح ہوگا؟ کیوں کہ جائداد تو ورثاء میں تقسیم ہو کر گزارے کے قابل نہ رہے گی۔ اس پر مرحوم کو جوش آیا اور کہنے لگے: ”بھابھی صاحبہ! تم کہتی ہو کہ یہ عربی پڑھ کر کھائے گا کہاں سے؟ خدا کی قسم! جس کو تم کمانے والا سمجھتی ہو اس جیسے اس کی جوتیوں سے لگے پھریں گے اور یہ ان کی جانب رُخ بھی نہیں کرے گا“۔ کس بلا کی فراست ہے اور مزاج شناسی۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر علی صاحب مرحوم سے کہیں زیادہ حضرت حکیم الامت پر روپیہ صرف کرتے تھے اور جب ایک مرتبہ بھاوج صاحبہ نے اس کی شکایت کی تو فرمایا بھائی! مجھے اس (مجدد الملت) پر رحم آتا ہے، وہ جو کچھ مجھ سے لیتا ہے میری زندگی ہی تک ہے، میرے بعد یا د رکھو! وہ میرے مال ومتاع سے بالکل علیحدہ رہے گا۔ چناں چہ ان میں سے ایک ایک قیاس حکیم الامت کی آئندہ زندگی میں پیکر حقیقت بن کر جلوہ نما ہوا۔

حضرت حکیم الامت کی والدہ ماجدہ بھی ایک صاحب نسبت بی بی تھیں۔

حضرت حکیم الامت کے ماموں پیرجی امداد علی صاحب رحمہ اللہ ایک زبردست صاحبِ حال وقال بزرگ تھے۔ یہ اپنے وقت کے مجذوبِ کامل حافظ غلام مرتضٰی صاحب پانی پتی کے مشورہ سے حیدر آباد دکن تشریف لائے۔ یہاں ملازم بھی ہوئے اور اس کے بعد حضرت صاحب رحمة اللہ علیہ ہی کے ایماء سے مرزا سردار بیگ کے حلقہٴ ارادت میں داخل ہو گئے، جنہوں نے نوابی وریاست کو ٹھکرا کر فقر ودرویشی اختیار کر رکھی تھی، گو حضرت حکیم الامت کو مسائل وحقائق میں ان سے اختلاف تھا، مگر ان کا جذبہٴ عشق بہرحال قابلِ قدر تھا، حکیم الامت پر ان کے اشعار سے آگ برستی تھی، چناں چہ ان کا یہ شعر حضرت اقدس نے بارہا نقل فرمایا ہے #
ساقی ترا مستی سے کیا حال ہوا ہوگا
جب تو نے یہ مے ظالم شیشے میں بھری ہوگی

حضرت کے نانا میر نجات علی رحمہ اللہ اعلی درجہ کے فارسی دان تھے، انشاء پرداز اور حاضر جواب بزرگ تھے۔ مولاناشاہ نیاز احمد بریلوی کے ایک خلیفہٴ خاص کے مرید اور حافظ غلام مرتضیٰ صاحب سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔

حضرت اقدس کے جدِّا علیٰ سلطان شہاب الدین ”فرخ شاہ“ کابلی تھے، ان کی اولا دمیں شیوخ تھانہ بھون کے علاوہ حضرت شیخ مجدد الف ثانی قدس سرہ، شیخ جلال الدین تھا نیسری اور شیخ فرید الدین گنج شکر جیسے کاملین ہوئے، خود حضرت فرخ شاہ پہلے تو والی کابل رہے اور سلطنتِ غزنویہ کے زوال پر جذبہ جہاد کے تحت کئی بار ہندوستان پر حملہ کر کے کافروں کو زیر کیا اور بامراد لوٹے۔ جہادِ اصغر سے فراغت پا کر جہاد اکبر میں مصروف ہو گئے، کابل کے کُہسار کو اپنا نشیمن بنایا۔ بزرگان چشت کے آگے زانوئے ارادت تہہ کر کے مرتبہ کمال کو پہنچے اور ایک عالم کو فیض یاب کیا اور پھر بعد وفات وہیں دفن ہوئے۔ یہ موضع آج تک درّہٴ فرخ شاہ کے نام سے مشہور اور زیارت گاہِ خاص وعام ہے۔
تا گوہر آدم نسبم باز نہ استند
ز ابائے خود ار بشمرم اصحاب کرم را

ولادت

خاندانِ اشرف کا مجمل خاکہ نظروں میں آگیا، ایسے عالی خاندان میں جہاں دولت وحشمت اور زہد وتقویٰ بغل گیر ہوتے تھے، حضرت مجدد الملّة کی جامع شخصیت ظہور پذیر ہوئی۔ ولادت کا واقعہ بھی عجیب ہے، حضرت اقدس کے والد مرحوم کے اولاد نرینہ زندہ نہ رہتی تھی، اس کی ظاہری وجہ یہ تھی کہ موصوف جب ایک مرتبہ مرضِ خارش میں بری طرح مبتلا تھے تو مجبوراً کسی ڈاکٹر کے مشورہ سے ایسی دوا کھا لی تھی جو قاطع نسل تھی۔ مگر جب اس کی خبر مرحوم کی خوش دامن صاحبہ کو پہنچی تو وہ سخت پریشان ہوئیں اور حضرت حافظ غلام غلام علی صاحب پانی پتی سے عرض کیا کہ میری لڑکی کے لڑکے زندہ نہیں رہتے ہیں۔ حافظ صاحب نے مجذوبانہ انداز میں فرمایا عمر وعلی رضی اللہ عنہما کی کشاکش میں مرجاتے ہیں، اب کی باری علی کے سپرد کر دینا۔ اس معمہ کو کسی نے نہیں سمجھا، لیکن حکیم الامت کی والدہ تاڑ گئیں اور فرمایا کہ حافظ صاحب کا یہ مطلب ہے کہ لڑکوں کا ددھیال ہے فاروقی اور ننھیال ہے علوی اور اب تک جو نام بھی رکھے گئے وہ ددھیالی طرز پر تھے، اب کی بار جب لڑکا ہو تو ننھیالی وزن پر رکھا جائے گا، جس کے آخر میں علی ہو۔ حافظ صاحب یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا: لڑکی بڑی ہشیار ہے، میرا منشا یہی تھا۔ ( یہ باتیں شرعی حیثیت نہیں رکھتیں، یہ ان کا اپنا خیال اور نقطہٴ نظر تھا)۔

مجدد الملت 5/ ربیع الثانی 1280ئھ کو چہار شنبہ کے دن صبح صادق کے طلوع کے ساتھ جلوہ نما ہوئے۔

بچپن کی باتیں

چوں کہ حضرت کی ولادت کے چودہ ہی مہینے بعد آپ کے چھوٹے بھائی اکبر علی مرحوم کی ولادت ہوئی اور ماں کا دودھ دو بچوں کے لیے کافی نہ ہوتا تھا، اس لیے ایک انّا رکھی گئی۔ پھر حضرت کی عمر شاید پانچ ہی برس کی ہوئی تھی کہ مادری سایہ سر سے اٹھ گیا، مگر محبتِ مادری کا سیلاب شفقتِ پدری کے دریا میں ضم ہوکر اب اس کی راہ سے امڈنے لگا۔ والد ماجد نے اپنے گو ہر اشرف کی تربیت بڑے ہی پیار ومحبت سے کی اور تربیت میں ان کا خاص لحاظ رکھا کہ اس کی جلا میں فرق نہ آئے۔ تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر جب مٹھائی بٹتی تو اس میں ہرگز شریک نہ ہونے دیتے، بلکہ اس وقت خود بازار سے لا کر اپنے فرزند کو چکھا دیتے اور فرماتے کہ مسجد کی مٹھائی لینا بے غیرتی کی بات ہے۔ نو عمری میں ایک مرتبہ فرزند کی زبان سے مولانا رفیع الدین صاحب رحمہ اللہ علیہ (مہتم دارالعلوم دیوبند) کے متعلق یہ نکل گیا کہ مولانا تو پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ بس اس پر اس سختی سے ڈانٹا کہ گویا اب مارنا ہی باقی تھا۔ فرمایا کہ بزرگوں کی شان میں یوں نہیں کہا کرتے ہیں۔ حضرت اقدس کی طبیعت خود ہی ایسی واقع ہوئی تھی کہ کبھی بازاری لڑکوں کے ساتھ نہیں کھیلے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن ہی سے حضرت کا مذاق دینی تھا، کھیلوں میں بھی نماز با جماعت کی نقل اتارتے تھے، بازار کی طرف کبھی نکل جاتے اور راستہ میں مسجد نظر پڑتی توسیدھے اندرچلے جاتے اور منبر پر چڑھ کر خطبہ کی طرح کچھ پڑھ پڑھا کر لوٹ آتے، گویا مستقبل کے نقشہ کا خاکہ اس نیم شعوری دور ہی سے کھینچ رہے تھے، ابھی 12 -13 برس ہی کی عمر ہو گی کہ ”فغان صبح گاہی“ کا چسکا لگا۔ پچھلی رات اٹھ بیٹھتے اور تہجد و وظائف میں منہمک ہو جاتے۔ والدہ تو تھیں نہیں۔ تائی صاحبہ کا دل بہت دکھتا کہ اس نو عمری میں یہ مشقت! لیکن عشق کی آگ تو بھڑک چکی تھی اور حضرت کے استاد مولا نافتح محمد صاحب جیسے صاحبِ نسبت واجازت بزرگ کی صحبت نے اپنا اثر جما دیا تھا۔

لطافتِ طبع کا یہ عالم تھا کہ بچپن ہی میں کسی کا ننگا پیٹ دیکھتے تو قے کردیتے تھے۔ طبیعت کی اس لطافت سے بہت ستائے گئے۔ بڑے ہوکر بھی یہ عالم رہا کہ جس کمرہ میں تیز خوش بو ہوتی سو نہ سکتے تھے۔ ابتدا ہی سے بے اصولی ناقابل برداشت رہی۔ اس وجہ سے حضرت والا کی بڑی اہلیہ محترمہ فرمایا کرتی تھیں کہ آپ تو کسی بادشاہ کے یہاں پیدا ہوتے۔

حضرت مولانا شیخ محمد صاحب محدث تھانوی رحمہ اللہ علیہ، جو حضرت حاجی امداد اللہ صاحب قدس سرہ کے پیر بھائی اور حضرت میاں جی نور محمد صاحب کے خلیفہ خاص تھے۔ حضرت حکیم الامت کے بچپن کے احوال و آثار ہی کو دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ میرے بعد یہ لڑکا میری جگہ ہوگا۔

حضرت حکیم الامت نے بچپن ہی میں ایک خواب دیکھا (جس سے پہلے کوئی خواب دیکھنا یاد نہیں) کہ بڑے مکان میں ایک پنجرہ رکھا ہوا ہے، جس میں دو خوب صورت کبوتر ہیں، پھر دیکھا کہ شام ہوگئی اور تاریکی چھا گئی، ان کبوتروں نے حضرت سے کہا کہ ہمارے پنجرہ میں روشنی کردو۔ حضرت نے کہا خود ہی کر لو۔ چناں چہ انہوں نے خود ہی چونچیں رگڑیں اور ساتھ ہی ایک تیز روشنی ہوئی، جس سے سارا پنجرہ منور ہو گیا۔ ایک مدت بعد جب حضرت نے اپنا یہ خواب ماموں واجد علی صاحب مرحوم سے بیان کیا تو انہوں نے یہ تعبیر دی کہ وہ دو کبوتر روح ونفس تھے، انہوں نے تم سے درخواست کی کہ مجاہدہ کر کے ہم کو نورانی کر دو، مگر آپ نے جو یہ کہا کہ تم خود ہی روشنی کر لو اور انہوں نے اپنی چونچیں روشنی کر لی، اس کا یہ مطلب ہے کہ ان شاء اللہ بلا ریاضت ہی حق تعالیٰ تمہاری روح اور نفس کو نور عرفان سے منور فرما دیں گے۔ چناں چہ مستقبل میں یہ خواب حقیقت بن کر ظاہر ہوا۔

حضرت مجدد الملت کی ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی۔ فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین علی صاحب مرحوم دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا، پھر تھانہ بھون آکر حضرت مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی کتا بیں اور فارسی کی متوسط کتابیں پڑھیں اور اس کی کچھ انتہائی کتابیں ماموں واجد علی صاحب سے پڑھیں، جو ادبِ فارسی کے کامل استاد تھے۔ پھر دیو بند پہنچ کر بقیہ نصاب کی تکمیل مولانا منفعت علی صاحب سے کی اور زبان فارسی میں پورا عبور حاصل کیا۔ ایک مرتبہ اسی زمانہٴ طالب علمی میں خارش میں مبتلا ہونے کی وجہ سے چھٹی لے کر گھر تشریف لائے تھے تو بطور مشغلہ فارسی اشعار پر مشتمل ایک مثنوی ”زیروبم“ لکھی، جس سے فارسی کی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے، اس وقت آپ کی عمر 18 برس سے زیادہ نہ تھی۔ آخر ذی قعدہ 1295ئھ میں دار العلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر شروع 1301ھ میں فراغت حاصل کی۔ اس وقت آپ کی عمر19 -20 برس کے لگ بھگ تھی۔

طالب علمانہ حیثیت

زمانہٴ طالب علمی میں حضرت میل جول سے الگ تھلگ رہتے۔ اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استادِ خاص حضرت مولانا محمد یعقوب قدس سرہ (صدر مدرس دارالعلوم دیو بند) کی خدمتِ میں جا بیٹھتے۔ یہ وہ بزرگ ہیں جو ہرفن میں ماہر ہونے کے ساتھ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی قدس سرہ کے خلیفہٴ رشید بھی تھے۔ ان کی اس جامع حیثیت کی وجہ سے ان کا حلقہٴ درس ”حلقہ توجہ“ بھی ہوتا تھا اور ذہن وقلب کی تعلیم وتربیت ایک ساتھ ہوتی تھی۔ افسوس کہ آج دینی درس گاہیں جامعیتِ فیض سے محروم ہیں۔ حضرت والا کی ابتدا ہی کو دیکھ کر اہل بصیرت انتہا کا پتہ چلا چکے تھے۔ چناں چہ جب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ طلباء کا امتحان لینے اور دستار بندی کے لیے تشریف لائے تو شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب رحمہ اللہ نے اپنے اس ہونہار طالب علم کی ذہانت وذکاوت کی بطور خاص مدح فرمائی۔ حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے مشکل مشکل سوالات کیے اور ان کے جوابات سُن کر مسرور ہوئے۔

حضرت اقدس کو علوم عقلیہ سے خاص مناسبت تھی۔ فطرت نے حاضر جوابی، طلاقتِ لسانی، ذہانت وفطانت کے جواہر سے پوری طرح آراستہ کیا تھا۔ منطق میں مہارت کا اعتراف یوں فرماتے تھے کہ ”میں سچی بات کیوں نہ کہوں، نہ متواضع ہوں نہ متکبر۔ الحمدللہ مجھے منطق میں مہارت حاصل ہے۔ چناں چہ دیوبند میں جب کوئی مذہبی مناظرہ کے لیے آتا تو فوراً اشرفی تلوار خلوت کے نیام سے باہر نکل آتی اور مخالف کو گھائل کر جاتی تھی، لیکن طبیعت کے اعتدال کا یہ عالم تھا کہ معقولات کو ہمیشہ دینیات کے لیے علومِ آلیہ سمجھتے تھے۔ آپ کی ہر تقریر وتحریر میں یہ جوہر نمایاں نظر آتا ہے۔ راس المناظرین مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب (استاد دارالعلوم دیوبند) حضرت کی اسی نو عمری کی تقریروں پر وجد کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت کو فنِ مناظرہ میں اس قدر کمال ہے کہ بڑے سے بڑا مناظر بھی نہیں ٹھہر سکتا اور خود حضرت فرمایا کرتے تھے کہ جتنا شوق مجھے اس زمانہ (طالب علمی) میں مناظرہ کا تھا اب اس کی مضرتوں کی وجہ سے اتنی ہی نفرت ہے۔ علومِ عقلیہ ونقلیہ میں اس قدر رسوخ رکھنے کے باوجود تواضع کا حال قابلِ دید ہے۔ 1300ھ کا واقعہ ہے خبر ملی کہ دستار بندی (تقسیم اسناد) کا جلسہ بڑے شاندار پیمانے پر ہونے والا ہے اور حضرت مولانا گنگوہی کے مقدس ہاتھوں یہ رسم طے پانے والی ہے۔ اپنے ہم سبقوں کو جمع کر کے اپنے استاد خاص حضرت مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں پہنچے اور عرض کی، حضرت! ہم نے سنا ہے کہ ہم لوگوں کی دستار بندی ہوگی اور سندِ فراغ دی جائے گی، حالاں کہ ہم ہرگز اس کے اہل نہیں۔ یہ تجویز منسوخ کر دی جائے، ورنہ اس میں مدرسہ کی بڑی بدنامی ہوگی کہ ایسے نالائقوں کو سند دی ہے۔ یہ سن کر صاحب بصیرت استاد کو جوش آیا اور فرمانے لگے تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے، یہاں چوں کہ تمہارے استاد موجود ہیں اس لیے ان کے سامنے تمہیں اپنی ہستی کچھ نظر نہیں آتی اور ایسا ہی ہونا چاہیے، باہر جاوٴ گے تب تمہیں اپنی قدر معلوم ہوگی، جہاں جاوٴ گے بس تم ہی تم ہو گے، باقی سارا میدان صاف ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ یہ پیش گوئی پوری ہو کر رہی۔

روشن مینار سے متعلق