کمی و زیادتی کے ساتھ نوٹوں کا تبادلہ کرنا

کمی و زیادتی کے ساتھ نوٹوں کا تبادلہ کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نوٹ پھٹنے کی وجہ سے اور نمبرات کے غائب ہونے کی وجہ سے لوگ اس کو نہ لیتے ہوں اور اس طرح بینک بھی اس کو نہ لیتا ہو، کیا ایسے نوٹ کو کم قیمت میں بیچنا جائز ہے یا ناجائز؟ مثلاً: 100 والے نوٹ کو 70میں اور کم قیمت پر خریدنے والا شخص کہتا ہے کہ میں اس کو اسٹیٹ بینک میں کم قیمت پر بیچتا ہوں، پھر وہ اس کو نئے نوٹ سے تبدیل کرتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے نوٹوں کے تبادلے کے متعلق کچھ شرائط ہیں، اگر وہ شرائط  پائی جائیں، تو اسٹیٹ بینک نوٹوں کا تبادلہ کرتا ہے اور اس پر اضافی رقم بھی نہیں لیتا، لہٰذا اس طرح کے نوٹوں میں کمی، زیادتی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں۔
لما في البحر:
’’قوله:(والفلس بالفلسين بأعيانهما)... لا يجوز لأن الفلوس الرائجة أثمان وهو لا يتعين ولذا لا تتعين الفلوس إذا قوبلت بخلاف جنسها كالنقدين... فإذا لم تتعين يؤدي إلى الربا أو يحتمله بأن يأخذ بائع الفلس الفلسين أو لافيرد أحدهما قضاء لدينه ويأخذ الآخر بلا عوض فصار كما لو كان بغير أعيانهما‘‘.(كتاب البيوع، باب الربا: 219/6، رشيدية)
وفي الشامية:
’’(وجيد مال الربا) لا حقوق العباد (ورديئه سواء)‘‘
’’قوله:(وجيد مال الربا ورديئه سواء) أي فلا يجوز بيع الجيد بالرديء مما فيه الربا إلا مثلا بمثل لإهدار التفاوت في الوصف‘‘.(كتاب البيوع، مطلب في استقراض الدراهم عددا:431/7، رشيدية)
وفي فقه البيوع:
’’فالصحيح الراجح في زماننا: أن مبادلة الأوراق النقدية الصادرة من دولة واحدة إنما تجوز بشرط تماثلها ولا يجوز التفاضل فيها ‘‘.(المبحث الثالث في الصرف، الباب السابع: تقسيم البيع من حيث نوعية البدلين :699/2: معارف القرآن كراتشي).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 192/41