ڈیمینشیا اور الزائمر کے مریض کو P.E.Gٹیوب لگانے کا حکم

ڈیمینشیا اور الزائمر کے مریض کو P.E.Gٹیوب لگانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد محترم (عمر 85سال) کو شدید ڈیمینشیا اور الزائمر ہے، اور اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں، اب نہ کھا سکتے ہیں، نہ پانی  پی سکتے ہیں، اور نلکی (NG TUBE)سے خوراک دی جارہی ہے، ڈاکٹروں کے مطابق حالت لاعلاج ہے، اور بہت تکلیف میں ہے، اب PEGٹیوب کے ذریعہ خوراک دینے کا فیصلہ کرنا ہے، جس سے مزید تکلیف کا اندیشہ ہے، کیا ایسی حالت میں PEGلگوانا درست ہے؟ یا ہم علاج روک کر انہیں مزید تکلیف سے بچائیں؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کی روشنی میں درست اقدام کیا ہوگا، جزاکم اللہ خیرا۔
وضاحت: ڈیمینشیا اور الزائمر تقریبا ایک ہی بیماری ہے، یعنی الزائمر اس کی ایک خاص قسم کی بیماری ہے، اس میں مریض کی یاد داشت چلی جاتی ہے، سوچنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، انسان اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے وغیرہ وغیرہ، اور PEGپیٹ کے ذریعہ کھانا پہنچانے کو کہتے ہے،اورNG TUBEناک کے ذریعہ کھانا پہنچانے کو کہتے ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر ماہر ڈاکٹر اس کو تجویز کریں اورPEG ٹیوب کے ذریعہ خوراک دینے سے آپ کے والد کی رُو بصحت ہونے یا بیماری میں کمی یا غذا کی ضرورت پورا ہونے کا غالب گمان ہو، تو پھر اس PEGٹیوب کو لگانے کی گنجائش ہے، لیکن اگر اس سے افاقہ نہ ہوتا ہو اور مریض کی حالت ویسی کی ویسے رہے تو پھر نہ لگانا ہی بہتر ہے۔
لما في سنن أبي داود:
عن أبي الدرداء رضي الله عنه  قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله أنزل الداء والدواء، وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام».(كتاب الطب، باب في الأدوية المكروهة، ص:55، رقم:3874، دار السلام رياض)
وفي الهندية:
’’أدخل المرارة في أصبعه للتداوي، قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى: لا يجوز، وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى: يجوز وعليه الفتوى، كذا في الخلاصة‘‘.(كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر: في التداوي والمعالجات...إلخ: 411/5، دار الفكر)
وفي التاتارخانية:
’’وفي النوازل: الرجل إذا ظهر به داء فقال الطبيب قد غلبك الدم فاخرجه فلم يخرجه حتى مات لا يكون ماجورا‘‘.(كتاب الكراهية، الفصل التداوي والمعالجات: 199/18، فاروقية كوئتة).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 192/136