کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے موٹر سائیکل (125) خریدی اور میں نے اس پر دو مہینے سواری کی اس کے بعد میرے ماموں نے کہا کہ موٹر سائیکل مجھے دے دو میں آپ کو دو مہینے بعد نئی موٹر سائیکل (125) جو آپ کہیں گے وہ لیکر دوں گا کیا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں، تو جواز کی کیا صورت ہوگی۔
وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ میں ماموں کو جس موٹر سائیکل کے بارے میں کہوں گا وہ لیکر دے گا خواہ موٹر سائیکل (2023) ماڈل کا ہو یا (2024) کا۔
مذکورہ معاملہ جہالت کی وجہ سے جائز نہیں آسان، جائز طریقہ یہ ہے کہ ادائیگی کا وقت متعین کر کے پیسوں سے خرید لے اور ادائیگی کے وقت رقم ادا کر لیں یا باہمی رضامندی سے اس قیمت کی موٹر سائیکل دیدے۔وفي البدائع:’’ومنھا أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة فإن كان أحدهما مجھولا جھالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع وإن كان مجھولا جھالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد لأن الجھالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك فيحصل المقصود‘‘.(كتاب البييوع: 598/6، رشيدية)لما في درر الحكام:’’(بيع المقايضة: بيع العن بالعين أي مبادلة مال بمال غير النقدين) يفھم من هذا التعريف أنه يشترط في المقايضة ... (2) أن يكون كل من المالين عينا كمبادلة فرس معين بفرس معين وإلا فبيع شيء معين بآخر غير معين كأن يبيع شخص فرس معين بخسين كيلة من الخنطة دينا لا يعد مقايضة‘‘. (المادة:1، 104/122)وفي فقه البيوع:’’كل واحد من البدلين في المقايضة يصلح أن يعتبر مبيعا أو ثمنا، وبما أن كل واحد منھما يصلح كونه مبيعا، فإنه يجب أن يكون كل واحد منھمال متعينا عند عقد البيع.... وبما أن كل واحد من البدلين في المقايضة عين ، فإنه يجب أن يكون تسليم البدلين معا‘‘. (المبحث الأول في المقايضة: 626/2، معارف القرآن).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/276