کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص زید کو ایک عدد گاڑی مزدا ٹرک کی ضرورت تھی جس کے لیے مسمٰی خالد کے ساتھ اس طرح صورت بنائی کہ اولاًخالد نے زید کو بیس لاکھ روپے قرض دیا، جس پر زید نے ایک اور فرد بشیر سے گاڑی خریدی، بعد القبض زید نے مذکورہ گاڑی خالد کو بیس لاکھ قرض کے بدلہ حوالہ کر کے قرضہ ادا کیا اور خالد گاڑی کا مالک ہوگیا اورگاڑی قبضہ میں لے لی۔ ایک دن بعد یہی گاڑی اسی زید کو 18 ماہ کی مدت پر بتیس لاکھ روپے (بیع مؤجل) کے ساتھ بیچ دی، جس کی صورت یہ بنائی کہ مبلغ پانچ لاکھ روپے پہلی قسط 11-08-2022 تک یعنی کے عقد پانچ ماہ کے بعد اور بقایا ستائیس لاکھ روپے 11-09-2023 تک ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ شرعًا درست ہے یا سودی معاملات میں آتا ہے، کیوں کہ اس طرح معاملہ (بیع) کو لوگ سودی معاملات کہتے ہیں؟ جواب بحوالہ دے کر ممنون فرمائے۔
وضاحت: مستفی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ مستقل کاروبار ہے، سود سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ادھار کا معاملہ کرنا یا قسطوں کا کاروبار کرنا مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ درست ہے:
1) بیع کرتے وقت متعاقدین یقینی طور پر تعیین مدت، تعیین ثمن اور قسطوں کی مقدار پر اتفاق کریں۔
2) عقد کے وقت پہلے مبیع حوالہ کیا جائے۔
3) مدت یا قسط میں تاخیر کی وجہ سے نہ اضافی رقم، جرمانہ وصول کی جائے اور نہ ہی اس مبیع کو روکا جائے۔
4) مذکورہ قرض کے معاملے میں کسی قسم کی شرط نہ لگائی جائے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ معاملہ مندرجہ بالا شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے سودی معاملات میں سے شمار نہیں ہوگا، بشرطیکہ ایک عقد دوسرے عقد کے ساتھ مشروط نہ ہو اور نہ ہی ایک عقد کا دوسرے عقد کے ساتھ لازم ہونے کا عرف ہو، تاہم بیع عینہ کے ساتھ مشابہت ہونے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں۔لما يتعلق فقه البيوع:”هل يجوز أن يكون الثمن المؤجل زائدا على الثمن الحال؟... أما الأئمة الأربعة، وجمھور الفقھاء، والمحدثين فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان على أنه بيع مؤجل بأجل معلوم“.وجاء أيضاً:”وإن كانت زيادة الثمن من أجل الأجل، وإن كان جائزا عند بداية العقد، ولكن لا تجوز الزيادة عند التخلف في الأداء؛ فإنه في معنى ”أتقضي أم تربي“، وذالك لأن الأجل، وإن كان منظورا عند تعين الثمن في بداية العقد، ولكن لما الثمن؛ فإن كله مقابل للمبيع، وليس مقابل للأجل... أما إذا زيد الثمن عند التخلف في الأداء، فھو مقابل للأجل مباشرة لا غير، وهو الربا“. (زيادة الثمن من أجل التأجيل: 542/1، معارف القرآن)وفي بحوث قضايا فقھية معاصرة:’’أولاً: حقيقة البيع بالتقسيط: البيع بالتقسيط بيع بثمن مؤجل يدفع إلى البائع في أقساط متفق عليھا، فيدفع البائع البضاعة المبيعة إلى المشتري حالة، ويدفع المشتري الثمن في أقساط مؤجلة...... وإن إمساك المبيع بيد البائع في هذه الصورة يمكن أن يتصور بطريقتين:الأول: أن يكون على أساس حبس المبيع؛ لاستيفاء الثمن.والثاني: أن يكون بطريق الرهن.أما الطريق الأول: وهو حبس البائع المبيع لاستيفاء الثمن؛ فإنه لا يجوز في البيع بالتقسيط؛ لأن البيع بالتقسيط بيع مؤجل، وإن حق البائع في حبس المبيع لاستيفاء الثمن إنما يثبت في البيوع الحالة، وليس له ذلك في البيوع المؤجلة‘‘. (بحوث في قضايا فقھية، احكام البيع بالتقسيط: 16/1، معارف القرآن)وفي فقه البيوع:’’كما يجوز ضرب الأجل لأدء الثمن دفعة واحدة، كذلك يجوز أن يكون أدء الثمن بالأقساط، بشرط أن تكون آجال الأقساط، ومبالغھا معينة عند العقد، وقد يسمى ”البيع بالتقسيط“ وهو نوع من البيع المؤجل، والأقساط قد تسمى ”نجوما“‘‘.وفيه ايضا:”ومن أحكام البيع المؤجل، والمقسط أن التأجيل حق المشتري، فلا يحق للبائع أن يطالب بالثمن قبل حلول الأجل، ولا يحق له أن يحبس من أجل استيفاء الثمن، كما يجوز في البيع الحال“. (البيع بالتقسيط التأجيل حق للمشتري في البيع المؤجل: 539/1، معارف القرآن).وفي الرد:’’قوله: (وهو مكروه) أي: عند محمد، و به جزم في الھداية... وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا، وقد ذمھم رسول الله فقال: إذا تبايعتم بالعينة، واتبعتم أذناب البقر ذللتم، وظھر عليكم عدوكم أي: اشتغلتم بالحرث عن الجهاد‘‘. (كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة: 7/ 655، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/142