مشترک گھر میں اپنا حصہ بیچنا

مشترک گھر میں اپنا حصہ بیچنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گھر سات بھائیوں میں مشترک تھا، سب سے بڑے بھائی نے تیسرے نمبر بھائی سے کہا کہ آپ اپنا ذاتی مکان مجھے دیدو میں اس گھر سے اپنا حصہ نکال دوں گا، اور یہ گھر تم چھ بھائیوں کا ہوگا، اب یہ معاملہ طے ہوا، لیکن تیسرے نمبر والے بھائی کہہ رہے ہیں کہ اس مشترک گھر میں بڑے بھائی کا جو حصہ تھا وہ میرا حق ہے، آیا اس کا یہ کہنا ٹھیک ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ بڑے بھائی نے تیسرے بھائی کو اپنا حصہ اس کے ذاتی مکان کے بدلے میں بیچ دیا تھا، لہذا مذکورہ مشترکہ گھر میں بڑے بھائی کا حصہ اب تیسرے بھائی ہے اور اس کا مذکورہ جملہ کہنا درست ہے۔
لما في الدر مع الرد:
’’(هو) [أي: البيع] .. شرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله)... وحكمه ثبوت الملك‘‘.
وتحته في الرد:
’’(قوله: وحكمه ثبوت الملك)أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن‘‘.(كتاب البيوع: 15/7، رشيدية، كوئته).
وفي البحر الرائق:
’’وأما أحكامه [أي: البيع] فالأصلي له: الملك في البدلين لكل منهما في بدل، وهو في اللغة: القوة والقدرة‘‘.(كتاب البيع، 438/5، رشيدية كوئته).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:191/125