عورتوں کے لیے دینی و دنیوی تعلیم حاصل کرنا

عورتوں کے لیے دینی و دنیوی تعلیم حاصل کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکیوں یا عورتوں کا تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے؟ دینی تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے؟ انگریزی و عصری تعلیم حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ مخلوط تعلیم کا کیا حکم ہے؟ بالفرض اگر جائز ہے تو اس کے حدود و قیود کیا ہو سکتے ہیں؟ مکمل و مدلل اور اطمنیان بخش جواب مرتب کریں۔

جواب

صورت مسئولہ میں عورتوں کا (دینی و عصری) تعلیم حاصل کرنا درج ذیل شرائط کی پابندی کے ساتھ جائز ہے:
٭…شرعی پردے کا مکمل اہتمام ہو۔
٭…کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
٭…زیب و زینت کر کے نہ جائیں۔
٭…ان کی تعلیم کے لئے جانے کی وجہ سے گھریلو امور (مثلا: شوہر کی خدمت، اولاد کی تربیت، گھر کی دیکھ بھال، صفائی وغیرہ جیسی فطری اور بنیادی ذمہ داریاں) متاثر نہ ہوں۔
البتہ عصری، انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مندرجہ بالا امور کی رعایت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دنیوی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے عقائد ، اخلاق اور عادات کے بگڑ جانے کا اندیشہ نہ ہو، کسی گناہ کا ارتکاب نہ ہو، نیز عورتوں اور مردوں کا مخلوط نظام نہ ہو۔
الغرض حدود شرع، حدود اخلاق کی مکمل پابندی اور حفاظت ہو۔ اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے، تو عورتوں کے لئے تعلیم ( دنیوی، دینی) حاصل کرنا جائز نہیں۔ باقی رہی مخلوط (لڑکے، لڑکیوں کا ایک ساتھ پڑھنا) تعلیم، تو یہ جائزنہیں۔
لما في القرآن الكريم:
﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾. [سورۃ آل عمران: 104]
و فيه أيضاً:
﴿قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾. (سورۃ یوسف: 108)
وفيه أيضاً:
﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَھرَكُمْ تَطْھِيرًا﴾. (سورۃ الأحزاب: 33)
وفيه أيضاً:
﴿يَاأَيُّھَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْھِنَّ مِنْ جَلَابِيبِھِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا﴾. (سورۃ الأحزاب: 59)
و في تفسير ابن كثير:
’’(تحت هذه الآية) ﴿يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ عن علي رضي الله عنه، في قوله تعالى: ﴿قوا أنفسكم وأهليكم نارا﴾ يقول: أدبوهم، علموهم.
وقال قتادة: يأمرهم بطاعة الله، وينھاهم عن معصية الله، وأن يقوم عليھم بأمر الله، ويأمرهم به‘‘.(سورة التحريم: 502/4، دار السلام ریاض)
و في روح المعاني:
”أن العلماء أتفقوا على أن الأمر بالمعروف والنھي عن المنكر من فروض الكفايات ولم يخالف في ذلك إلا النزر“. (سورة آل عمران: 21/4، دار إحياء التراث العربي)
وفي صحيح البخاري:
’’حدثنا عثمان بن أبي شيبة، قال: حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل، قال: كان عبد الله يذكر الناس في كل خميس فقال له رجل: يا أبا عبد الرحمن لوددت أنك ذكرتنا كل يوم، قال: أما إنه يمنعني من ذلك أني أكره أن أملكم، وإني أتخولكم بالموعظة، كما كان النبي صلى الله عليه وسلم يتخولنا بھا، مخافة السآمة علينا“. (كتاب العلم، باب من جعل لأهل العلم أياما معلومة، رقم الحديث: 70، ص: 17، دار السلام ریاض)
و في الدر المختار:
”واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين، و هو بقدر ما يحتاج لدينه“.(مقدمة الدر المختار : 1/ 107، رحمانية)
وتحته في رد المحتار:
العلم الموصل الى الآخرة او الاعم منه. قال العلامي في ( فصوله) ”من فرائض الإسلام تعلم ما يحتاج إليه العبد في إقامة دينه و اخلاص عمله الله تعالی ومعاشرة عباده. و فرض على مكلف ومكلفة بعد تعلمه علم الدين و الھداية تعلم علم الوضوء والغسل والصلاة والصوم، وعلم الزكاة لمن له نصاب، والحج لمن وجب عليه، والبيوع على التجار ليحترزوا عن الشبھات والمكروهات في سائر المعاملات‘‘.(مقدمة، قبيل مطلب في فرض العين وفرض الكفاية: 107/1، رحمانية)
و في الدر المختار:
”الخلوة بالأجنبية حرام“.... (كتاب الحظر والإباحة، فصل في الحس والنظر، 368/6، سعيد).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/339