کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کو تین ماہ کا حمل ہے الٹراساؤنڈ کروانے سےمعلوم ہوا ہے کہ بچہ کی کھوپڑی نہیں ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ یہ حمل ساقط کردو، آیا ناقص الخلقت ہونا ایسا عذر ہے کہ جس کی وجہ سے حمل کو ضائع کردیا جائے؟ نیز اس صورت میں حمل کو ضائع کرنے سے گناہ ہوگا یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں حمل کے اعضاء بننے سے پہلے اگر ماہر دیندار ڈاکٹر کی طبی تحقیق سے حمل میں کسی شدید بیماری یا نقص کا علم ہو جائے جس کی وجہ سے ماں کے جان یا عضو کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو یا بچہ کے نقص کی وجہ سے والدین کا غربت وغیرہ کی بنا پر بچہ کو سنبھالنا مشکل ہو، تو اسقاط کی اجازت ہے ورنہ نہیں، البتہ چار ماہ یا اس سے زیادہ کے حمل کو ساقط کرنا جائز نہیں۔لما في الفتاوى السرجية:’’امرأة عالجت في إسقاط ولدها لم تأثم سالم يستبن شيء من خلقه‘‘. (كتاب الكراهية، باب التداوي، ص:329، زمزم).وفي الدر مع الرد:’’وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج‘‘.’’قوله:(وقالوا إلخ) قال في النھر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً‘‘.(كتاب النكاح، مطلب في إسقاط الحمل، 335/4، رشيدية)وفيه أيضاً:’’ويكره أن تسقى لإسقاط حملھا... وجاز لعذر حيث لا يتصور قوله وجاز العذر: كالمرضعة إذا ظھر بھا الحمل وانقطع لبنھا وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لھا أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو، وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوماً، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية‘‘.’’قوله:(حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظھر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك‘‘. (كتاب الحظر والإباحة: 709/9، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/175