کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا تعارف لوگوں میں علماء سے متعلق رہنے کے حوالے سے ہے، لہذا بہت سے لوگ زوجین کی خلوت کے حوالے سے بہت سے خلاف حیاء سوالات کرتے ہیں جنہیں اکثر ہم ٹال دیتے ہیں، لیکن مسئلہ حلال و حرام کا ہے، اس وجہ سے ہمیں سوال کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔مختصرا سوالات یہ ہیں:
۱…سلسلہ اولاد کو روکنا بلا عذر یہ تو مکروہ ہے، لیکن کیا یہ گناہ بھی ہے؟
۲…کیا ایسے کنڈوم یا بیرونی دوا کا استعمال جائز ہے جس کا مقصد انزال کو مؤخر کرنا ہو؟ اس میں بعض ایسے کنڈوم آتے ہیں، جو موٹی تہہ والے ہوتے ہیں تاکہ مرد کو احساس کم ہواور وہ دیر تک ٹھہر سکے۔
۳…کیا کسی ایسے کنڈوم کا استعمال جائز ہے، جس میں بیوی کے سروراضافہ کے لئے کوئی وائبریٹر وغیرہ لگا ہو؟
۴…کیا مصنوعی آلہ کا استعمال جب کہ اسے شوہر نے پہن رکھا ہو (یہ بلکل کنڈوم کی طرح پہنا جاتا ہے، لیکن اتنی موٹی تہہ کا ہوتا ہے کہ اس سے احساس دخول تقریبا معدوم ہوجاتا ہے) اس سے دخول جائز ہے؟ (یہ سوال خصوصا مریض مردوں کی طرف سے کیا جاتا ہے جو کسی بیماری کے سبب پوری طرح حق زوجیت ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے، مثلا: شوگر کے مریض یا جن کو کسی حادثہ کی وجہ سے ایسا بیرونی ضرر پہنچا ہے کہ وہ دور نہیں ہوسکتا، یا بہت وقت درکار ہےاور تب تک وہ صبر نہیں کرسکتا، اور اس آلہ کے بغیر حلال طریقہ پر چلنا بھی ممکن نہیں، یہ آلہ کبھی تو موٹی تہہ والی نرم چیز ربڑ وغیرہ سے بنا ہوتا ہے،اور کبھی پلاسٹک وغیرہ سے سخت بنا ہوتا ہے تاکہ بیمار شخص جو مکمل قدرت نہیں رکھتا وہ بھی اس سے مباشرت کرسکے۔)
براہ کرم تمام صورتوں کے جواب عنایت فرمائیں تاکہ لوگوں کو واضح طور پر ان مسائل کا معلوم ہوسکے، کیوں کہ ایسی سینکڑوں آلات مارکیٹ میں آج کل دستیاب ہے، اور وقتا فوقتا ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اور لوگوں میں غالبا ان کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اگر سلسلہ اولاد کے روکنے سے عزل (بیوی کی شرمگاہ کے باہر منی گرانا) مراد ہے، تو بغیر عذر کے بھی اس کی گنجائش ہے، اور اگر حمل نہ ٹھہرانے والی ادویات مراد ہیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے، اور اگر حمل گرانا مراد ہے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ حمل ٹھہرنے کے بعد چار ماہ سے پہلے پہلے کسی ایسے عذر کی وجہ سے جس سے بچہ یا ماں کی جان کو خطرہ ہو، حمل گرانا مباح ہے، چار مہینے کے بعد حمل گرانا سخت گناہ کا کام ہے۔
نیز عام کنڈوم جو عموما ربڑ کے ہوتے ہیں، یہ بھی عزل کا ایک جدید طریقہ ہے، اسے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، البتہ وائبریٹر والے کنڈوم یا موٹی تہہ والے پلاسٹک کے کنڈوم یا مصنوعی آلہ کا استعمال کرنا ناجائز اور گناہ کا کام ہے۔
مفتی شفیع عثمانی رحمہ اللہ معارف القرآن جلد نمبر6، صفحہ نمبر 297،میں آیت [فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ] کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدہ کے مطابق قضاء شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے، اور جو عورت شرعا اس پر حرام ہے، اس سے نکاح بھی بحکم زنا ہے، اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے، یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی، اور جمہور کے نزدیک استمناء بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے‘‘۔
البتہ جو لوگ کسی بیماری یا حادثہ کی وجہ سے پوری طرح حق زوجیت ادا نہیں کرسکتے، مثلا شوگر کے مریض یا جن کو کسی حادثہ کی وجہ سے ایسا بیرونی ضرر پہنچا ہےکہ وہ دور نہیں ہوسکتا یا بہت وقت درکار ہےاور تب تک وہ صبر نہیں کرسکتا، ان کے لئے اپنے ہاتھ سے بیوی کو فارغ کرنے کی گنجائش ہے۔لما في التنزيل:’’وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ◌ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ◌ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ‘‘.(سورة المومنون، رقم الآية:7-5)وفي الرد:’’ولأن غاية مسها لذكره أنه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا... كما إذا وضعت فرجها على يده فهذا كما ترى تحقيق لكلام ((البحر)) لا اعتراض عليه فافهم؛ وهو تحقيق وجيه؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها... فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها... جميع بدنه حتى ذكره‘‘.(كتاب الطهارة، باب الحيض: 535/1، رشيدية)وفي الدر مع الرد:’’(وجاز عزله عن أمته بغير إذنها وعن عرسه به) أي: بإذن حرة أو مولى أمة وقيل يجوز بدونه لفساد الزمان.ذكره ابن سلطان‘‘.’’قوله:(وجاز عزله) هو أن يجامع، فإذا جاء وقت الإنزال نزع فأنزل خارج الفرج‘‘.(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس: 616/9، رشيدية)وفيه أيضا:’’وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهرولو بلا إذن الزوج. قلت: لكن في البزازية أن له منع امرأته عن العزل. اهـ. نعم النظر إلى فساد الزمان يفيد الجواز من الجانبين‘‘.(كتاب النكاح، باب نكاح الرقيق: 335/4، رشيدية)وفي الرد:’’بقي هنا شيء، وهو أن علة الإثم هل هي كون ذلك استمتاعا بالجزء كما يفيده الحديث وتقييدهم كونه بالكف ويلحق به ما لو أدخل ذكره بين فخذيه مثلا حتى أمنى، أم هي سفح الماء وتهييج الشهوة في غير محلها بغير عذر كما يفيده قوله: وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة إلخ؟ لم أر من صرح بشيء من ذلك، والظاهر الأخير لأن فعله بيد زوجته ونحوها فيه سفح الماء لكن بالاستمتاع بجزء مباح، كما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين بخلاف ما إذا كان بكفه ونحوه، وعلى هذا فلو أدخل ذكره في حائط أو نحوه حتى أمنى أو استمنى بكفه بحائل يمنع الحرارة يأثم أيضا، ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون}الآية. وقال: فلم يبح الاستمتاع إلا بهما: أي بالزوجة والأمة اهـ. فأفاد عدم حل الاستمتاع أي: قضاء الشهوة بغيرهما، هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم‘‘.(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده: 427/3، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 190/295