بچوں سے فیس لے کر ان کو مسجد میں قرآن پڑھانا

بچوں سے فیس لے کر ان کو مسجد میں قرآن پڑھانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کے تحت (ایک غیر رہائشی) مدرسہ (شعبہ حفظ) چل رہا ہے، جس کی کلاس (الگ سے مدرسہ کی بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے) مسجد شرعی کے اندر ہی لگائی جاتی ہے، (ان بچوں کا قیام طعام ان کے اپنے گھروں میں ہی ہوتا ہے، مدرسہ میں نہیں) انتظامیہ مدرسہ نے طے کر رکھا ہے کہ طلباء سے ماہانہ دو ہزار فیس لی جائے، جو تمام طلباء کی طرف سے وصول نہیں ہوتی، کچھ تو دیتے ہی نہیں، کچھ ایک ہزار، کچھ پانچ سو، کچھ مکمل دو ہزار دے دیتے ہیں۔
مذکورہ تفصیل کے بعد معلوم یہ کرنا ہے کہ حدود مسجد کے اندر بچوں سے فیس لے کر (متعین تنخواہ والے اساتذہ کا) پڑھانا شرعا کیسا ہے؟ واضح رہے کہ بچوں سے حاصل کردہ فیس مدرسہ کے فنڈ میں ہی جمع کی جاتی ہے، جو کہ (مدرسہ میں آنے والے دیگر اموال زکوۃ وعطیات وغیرہ کے ساتھ بعد التملیک) ضروریات ومصالح مدرسہ (بجلی وگیس کے بل، اساتذہ کی تنخواہوں وغیرہ) ہی میں خرچ کی جاتی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب تک اہل مدرسہ کے پاس کوئی جگہ نہ ہو، اس وقت تک مدرسہ کی کلاسیں مسجد کی حدود میں لگانے کی گنجائش ہے، جب کہ مدرسہ جو مسجد کی بجلی وغیرہ استعمال کرے، اس کے اخراجات بھی ادا کئے جائیں، مگر ساتھ ساتھ مدرسہ کے لئے علیحدہ جگہ تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے۔
لما في الرد:
’’جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة‘‘. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع : 707/9، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی(فتوی نمبر:180/102)