کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آن لائن ایک بزنس ہے جس کا نام (ایم ٹی ایف ای) ہے یہ باہر کی ایک کمپنی ہے، اس کی ایپ گوگل سے انسٹال کرنی پڑتی ہے اس کے بعدجو جتنے زیادہ ڈالر اس میں لگائے گا، اس کو اسی تناسب سے زیادہ نفع ملے گا۔ مثلاً: کوئی 61 ڈالر لگائے تو اس پر روزانہ نفع ایک سے دو تک متوقع ہے متعین نہیں، 201 ڈالر پر تین سے پانچ تک نفع ملے گا۔
یہ بھی وضاحت لازمی ہے کہ کبھی کبھار نقصان بھی ہوتا ہے۔ نیز دوسرے ممبر لانے پر علیحدہ کمیشن ملتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح آن لائن کاروبار شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ کمپنی فاریکس مارکیٹ: بڑی عالمی کرنسیوں پر مشتمل ہے، امریکی ڈالر، یورو، جاپانی ین پاؤنڈ، اسٹریلین ڈالر، کینیڈین ڈالر، اسی طرح کموڈیٹی مارکیٹ: سونا، چاندی، خام تیل، پلاٹینم، تانبا اور قدرتی گیس کی تجارت پر مشتمل ہے۔
مذکورہ کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنے والا جتنا زیادہ پیسہ لگائے گا اس حساب سے نفع ملے گا، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کمپنی نے وہ پیسہ کس کام میں لگایا ہے اور نہ ہی کمپنی اکاؤنٹ کی ضمانت دیتی ہے، یعنی بند بھی ہو سکتا ہے، نیز کمپنی کی طرف سے انویسٹمنٹ کرنے والے پر کوئی کام کر نالازم نہیں ہوتا، بلکہ کمپنی خود ہی ”منی ایکس چینجنگ“ کا کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے حاصل شدہ نفع لوگوں کو دیتی ہے، اسی طرح دوسرے اشیاء کی تجارت کر کے حاصل شدہ نفع لوگوں کو دیتی ہے۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ کمپنی (ایم، ٹی، ایف، ای) میں مندرجہ ذیل متعدد خرابیاں پائی جانے کی وجہ سے اس میں پیسہ لگا کر نفع حاصل کرنا جائز نہیں:
۱… مذکورہ کمپنی میں چوں کہ قرض دے کر نفع حاصل کیا جاتا ہے اور قرض پر نفع حاصل کرنا شرعا نااجائز اور حرام ہے۔
۲… کموڈیٹی مارکیٹ: سونا، چاندی، خام تیل اور دیگر چیزوں کی خرید وفروخت میں شرعی قوانین کی رعایت نہیں کی جاتی مثلا ان چیزوں کو خریدنے کے بعد ان پر قبضہ سے پہلے ان کو بیچا جاتا ہے، اسی طرح خیار رؤیت (خریدنے والے خریدی ہوئی چیز کے دیکھنے کا اختیار) اور خیار عیب(خریدنے والے کو خریدی ہوئی چیز میں عیب نکلنے پر اختیار کا ملنا) خریدی ہوئی چیز کا حقیقتا موجود ہونا، اور بائع کا اس کو سپرد کرنے پر قادر ہونا، یہ تمام شرعی اصول عموما ”ملٹی لیول مارکیٹنگ“ کے تحت چلنے والی کمپنیوں میں مفقود ہوتی ہیں۔
۳… مذکورہ کمپنی کا مقصد مستقل طور پر کاروبار کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو کمیشن کا لالچ دے کر کمپنی کی ممبر سازی کرنا ہوتی ہے اور شریعت نے اپنے ہاتھ سےمحنت کی کمائی کو بہترین ”کمائی“ قرار دیا ہے، اور بغیر محنت کی کمائی کی حوصلہ شکنی فرمائی ہے۔
اور چوں کہ مذکورہ کمپنی میں بغیر کسی محنت ومشقت کے بالواسطہ بننے والے ممبروں کی وجہ سے اجرت (کمیشن) ملتی ہے، جو کہ ناجائز ہے۔
لہذا (ایم، ٹی، ایف، ای) کمپنی میں مذکورہ بالا مفاسد پائے جانے کی وجہ سے اس کا ممبر بننے اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے اجتناب کرنا چاہیے۔لما في روح المعاني:’’﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾... والمراد بالباطل ما يخالف الشرع كالربا، والقمار، والبخس، والظلم، قاله السدي، وهو المروي عن الباقر رضي الله تعالى عنه، وعن الحسن: هو ما كان بغير استحقاق من طريق الأعواض‘‘. (سورة النساء[الآية:5]، 466/29، مؤسسة الرسالة)وفي السنن الكبرى:”عن جميع بن عمير، عن خاله أبي بردة رضي الله تعالى عنه قال: سُئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي: الكسب أطيب أو أفضل قال: ((عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور))‘‘. (رقم الحديث:10397، دار الكتب العلمية)وفي الرد:’’تتمة: قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار، يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه، أن في كل عشرة دنانير كذا، فذلك حرام عليھم.وفي الحاوي: سُئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً؛ لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام‘‘. (كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مطلب في أجرة الدلال: 107/9، رشيدية)وفي بدائع الصنائع:’’و(أما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فھو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحاً، أو أقرضه وشرط شرطاً له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه ((نهى عن قرض جر نفعاً))؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنھا فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبھة الربا واجب‘‘. (كتاب القرض، فصل في شروط القرض، 597/10، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/136