کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل جو ناف کا دم بذریعہ ہاتھ چیک کر کے کیا جاتا ہے، اور اس میں درود شریف اور قرآن کریم کی آیت پڑھی جاتی ہے، کیا یہ درست ہے؟ اگر درست نہیں، تو اس کا مسنون طریقہ بیان فرمائیں۔
یہ عمل بطور علاج مجربات میں ہے، ہر علاج کا ثبوت حدیث سے ہونا ضروری نہیں، فی نفسہ جائز ہونا کافی ہے، چنانچہ مذکورہ علاج کا طریقہ حدیث سے ثابت نہیں، البتہ اس عمل کو سنت سمجھے بغیر بطور علاج اختیار کر سکتے ہیں، اور شفاء اللہ تعالی کی جانب سے ہونے کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے۔لما في الأشباه والنظائر لإبن نجيم:’’القاعدة السادسة: العادة محكمة..... إنھا تعتبر العادة إذا اطردت أو غلبت...... المعروف كالمشروط‘‘.(القاعدة السادسة، ص: 93-100، قديمي).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/89