اولاد کی موجودگی میں پوتوں کے لیے وصیت کا حکم

اولاد کی موجودگی میں پوتوں کے لیے وصیت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ   ایک شخص  نے اپنی 36 ایکڑر زمین جو دو مختلف جگہوں میں ہے اسٹامپ پیپر پر لکھ کر اپنے دو پوتوں کو دی کہ میرے مرنے کے بعد یہ ان دو کی ہے، اس بات کا علم تمام خاندان کو تھا، مذکورہ شخص کے  مرنے کے بعد ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا حیات  ہیں، کیا یہ زمین ان دو پوتوں کو ملے گی یا دوبارہ تقسیم ہوگی، تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا، کس کو ملے گی اور کون محروم ہوگا اور کتنی کتنی ملے گی؟

جواب

صورت مسئولہ  میں مرحوم کے بیٹے اور بیٹیوں کی موجودگی میں اس کے پوتے وارث نہیں ہوں گے، البتہ مرحوم  کا اپنے پوتوں کے لیے 36 ایکڑ زمین کے بارے میں اسٹامپ پیپر پر لکھنا وصیت ہے، جو کہ درست ہے لہذا میت کے ایک تہائی مال میں سے یہ وصیت نافذ کی جائے گی، لیکن اگر وہ 36 ایکڑ زمین مرحوم کے ایک تہائی مال سے زائد ہو رہے ہوں، تو ایک تہائی سے زائد میں تمام ورثاء کی رضا مندی ضروری ہوگی (تاہم ایک تہائی مال میں بہر صرت وصیت نافذ ہوگی)۔
لہذا صورت مسئولہ میں سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز وتکفین کے درمیانی اخراجات نکالے جائیں (بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے تبرعًا ادا نہ کئے ہوں)، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض، یا دیگر مالی واجبات ہوں، تو وہ ادا کیئے جائیں، پھر مرحوم کو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی مال تک نافذ کردیا جائے، پھر بقیہ ترکہ کو ورثاء کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردیا جائے۔
اب تقسیم کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ بقیہ قابل تقسیم جائیدا د کے چار (4) حصے بنا دیئے جائیں، جن میں سے دو حصے بیٹے گو اور ایک، ایک حصہ دونوں بیٹیوں کو دیا جائے۔
فیصدی اعتبار سے بیٹے کو ٪50، جب کہ دونوں بیٹیوں کو ٪25، ٪25 دیئے جائیں۔
لما في قوله تعالى:
﴿يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين﴾۔ (النساء: 11).
وفي السراجي:
’’يرجحون بقرب الدرجة، أعني أولاهم بالميراث جزء الميت، أي البنون، ثم بنوهم وإن سفلوا‘‘. (باب العصبات، ص:54، المكتبة البشري).
وفي التنوير مع الدر:
’’(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته وهم كبار)‘‘. (كتاب الوصايا، 358/10، مكتبة رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/80