کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مندرجہ ذیل طریقوں سے بینک کے ذریعے سولر پینل خرید نا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
1) بینک تمام اشیاء خرید کرمشتری کو اپنا نفع (ادائیگی کی معیاد پر) رکھ کر بیچ دیتا ہے، اور مشتری اور اشیاء کی انشورنس کروا لیتا ہے۔
2) بینک رقم دے دیتا ہے اس بنیاد پر کہ کیا کام کرنا ہے اور اپنا نفع رکھ کر مقررہ شده میعاد کے حساب سے رقم وصول کرتا ہے ۔
3) بینک مشتری کی ضرورت کی اشیاء خرید کو شتری کو دیدیتا ہے اور مشتری کی ادائیگی کی میعاد کے حساب سے نفع رکھ کر قیمتاً دیدیتا ہے ۔
4) بینک اشیاء مشتری کو کرائے پر دیدیتا ہے، مشتری کرایہ کے ساتھ اشیاء کی قیمت بھی ادا کرتا ہے، کرایہ بھی مشتری کی ملکیت کے بقدر کم ہوتا رہتا ہے۔
تمام صورتوں میں اشیاء اور مشتری کی انشورنس بھی ہوتی ہے، تاکہ کسی کے جاتے رہنے کی صورت میں سرمایہ کار (بینک) کو نقصان کی صورت پیش نہ آئے، کیونکہ بینک کی رقم بھی عوام کی امانت ہوتی ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی ۔
صورت مسئولہ میں بینک کے ذریعے سولر پینل خرید نادرج ذیل وجوہ سے نا جائز ہے :
۱… سود کا لین دین، جیسا کہ نمبر 2 میں ہے کہ بینک قرض دیگر میعاد کے حساب سے نفع کے ساتھ وصول کرتا ہے، اور یہ قرآن وحدیث کی نصوص میں صراحتاً حرام ہے۔
۲…اگر مقررہ میعاد تک واپسی نہ ہوئی، تو بینک سود لے گا، ادائیگی وقت پر ہو بھی جائے، تب بھی سود کا معاملہ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔
۳…انشورنس کرنے میں قمار (جوا) بھی ہے، اور سود بھی یعنی: ایک (مشتری) کی طرف سے مال یقینی ہے اور دوسرے (بینک) کی طرف سے موہوم، یہ بھی امکان ہے کہ زیادتی کے ساتھ واپس ہو جائے۔لما في التنزيل:﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَھَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾. (البقرة: 275)وفيه أيضا:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّھَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾. (المائدة: 90)وفي رد المحتار:’’[تنبيه]:في جامع الفصولين أيضا: لو شرطا شرطا فاسدا قبل العقد ثم عقدا لم يبطل العقد. 1هـ. قلت: وينبغي الفساد لو اتفقا على بناء العقد كما صرحوا به في بيع الھزل كما سيأتي آخر البيوع‘‘. (كتاب البيوع، مطلب في الشرط الفاسد: 283/7، رشیدیه).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/253