کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دیت کے رقم کا امین کون ہوگا؟
تنقیح: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مقتول کے ورثاء میں نابالغ دو بچے اور اس کی بیوہ، اور والدین حیا ت ہیں۔
واضح رہے کہ یتیم نابالغ بچوں کے مال میں ولایت کا حق اس کو حاصل ہے جس کو باپ نے انتقال سے پہلے وصی مقرر کیا ہو اگر وصی نہ ہو تو ان کے دادا کو ولایت کا حق حاصل ہے، لہذا صورت مسئولہ میں مقتول کے ورثاء کو دیت میں ملی گئی رقم کی ولایت کا حق ان کے دادا کو حاصل ہے کہ وہ اس رقم کی حفاظت کرے اور بچوں کے بالغ ہوتے ہی وہ رقم بچوں کو لوٹادے۔لمافي التنوير مع الدر:’’والولاية في مال الصغير إلى الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه إذ الوصي يملك الإيصاء (ثم إلى) الجدأبي الأب‘‘.(كتاب الوكالة: 305/6، رشيدية)وفي حاشية إبن عابدين:’’قال في جامع الفصولين ولهم الولاية في الإجارة في النفس والمال والمنقول والعقار فلو كان عقدهم بمثل القيمة أو يسير الغبن صح لا بفاحشة ولا يتوقف على إجازته بعد بلوغه لأنه عقد لا مجيز له حال العقد وكذا شراؤهم لليتيم يصح بيسير الغبن ولو فاحشا نفذ عليهم لا عليه‘‘.(كتاب الوكالة: 306/8، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:192/344