سُنی سنائی بات کی تحقیق کی ضرورت اور سوشل میڈیا

سُنی سنائی بات کی تحقیق کی ضرورت اور سوشل میڈیا

مولانا عبد المتین

سورة الحجرات کی آیت نمبر 6 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِینَ ءَ امَنُوٓا إِن جَآءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوٓا أَن تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَھٰلَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلیٰ مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِینَ﴾

اے ایمان والو! اگر کوئی کچی بات لانے والا تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔

سورت کا تعارف

سورہ حجرات کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بہت اہم اور نازک معاملے سے متعلق متوجہ فرمایا ہے۔ سورہ حجرات میں اللہ رب العزت کچھ ایسے اصولوں کو بیان فرماتے ہیں جن کا اسلامی معاشرت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے، اگر ان اصولوں کو مد نظر رکھا جائے تو نہایت خوب صورت اور پاکیزہ معاشرے کی فضا ہموار ہو سکے گی۔

1- ان میں سب سے پہلا اصول یہ بیان فرمایا کہ معاشرے کا دستور قرآن وسنت کو ہونا چاہیے۔

2- اس دستور کو صرف زبانی حد تک نہیں، بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہونا ہے۔

3- اس سورت کے تیسرے اہم اصول کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہ کسی بھی معاملے سے متعلق پہلے بھرپور تحقیق سے کام لیا جائے، چاہے وہ معاملہ دینی ہو یا دنیوی، گھریلو، دفتری، انتظامی، سیاسی ہو یا آپس کے تعلقات سے متعلق، الغرض کوئی بھی ایسی بات پتہ چلے تو جب تک مکمل تحقیق نہ ہو جائے، بات مکمل واضح نہ ہو جائے، تب تک اس پر نہ یقین کرو، نہ عمل کرو، نہ ہی اس حوالے سے کوئی اقدام کرو۔

دور حاضر کی نزاکت

موجودہ زمانے سے اس اصول کا بہت گہرا تعلق ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، جس میں ہر طرف سے خبریں آرہی ہیں، ہر طرف سے معلومات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں تو ایسے موقع پر بڑی نزاکت کے ساتھ ان چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

بات کرنے والا کون ہے؟

لہٰذا سب سے پہلے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ جو شخص بات کر رہا ہے وہ خود کیسا ہے؟ اس کے اپنے اندر کتنی سچائی ہے؟ اس کا کردار واخلاق کیسا ہے؟ کہیں وہ کوئی مشکوک یا کم زور کردار کا مالک تو نہیں؟ ایسا تو نہیں کہ وہ جہاں کہیں سے جیسی تیسی ادھوری بات سن لیتا ہے تو فورا آگے پھیلا دیتا ہے؟

آپس کے تعلقات میں رنجشیں کیسے پیدا ہوتی ہیں؟

عام طور پر آپس کے تعلقات میں جو رنجشیں پیدا ہوتی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ہر سنی سنائی بات پر فوری یقین کرنا ہے، مثلا کوئی شخص آئے اور کہے کہ ”آپ کو پتہ ہے فلاں شخص آپ کے متعلق اس طرح کہہ رہا تھا“ اس جملے سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ ایک مخلص دوست کی پر وا کی جارہی ہے، لیکن ذرا سا غور کیا جائے تو ممکن ہے کہ اس بات کے پہنچا نے میں اس شخص کے بہت سے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں، ہو سکتا ہے اسے اپنا کوئی کام نکالنا ہو اور جھوٹی ہم دردی کا ڈھونگ رچا رہا ہو اور اپنے مقصد کی خاطر جھوٹ کہہ رہا ہو۔

یہاں تک کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات بہت چھوٹی سی ہوتی ہے، بتانے والا اس چھوٹی بات کو اپنے مقصد کی خاطر بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور من پسند نتائج نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے اور یہ باتوں باتوں میں ایسا بھی کہہ دیتا ہے کہ ”میں آپ کو دوستی یاری میں یہ سب بتا تو رہا ہوں، لیکن خیال رکھنا میرا نام نہ آئے“۔ گویا یہ آگ بھی جلاتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ میرا نام نہ آئے، تاکہ بات اگر بگڑ جائے تو مجھ پر حرف نہ آئے، بلکہ یہ اکیلے ہی نمٹے، بالآخر یہ صاحب بعد میں انجان بن کر لاعلمی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔

بڑے بڑے مسائل یا غبارے

ایسے موقع پر ہم جذبات میں آکر اس کی بات کا یقین کر لیتے ہیں یہ سوچ کر کہ یہ میرے ساتھ مخلص ہے، میرے حق میں بات کر رہا ہے، میرا ہم درد ہے، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ معاملہ ریت کے ذرے برابر تھا، جسے پہاڑ بنا کر میرے سامنے پیش کیا گیا، ٹھیک ایسے ہی جیسے غبارے ہوتے ہیں جو اپنے ظاہر میں بہت موٹے تازے، چمک دار اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، لیکن ایک سوئی کی چبھن سے ڈھیر ہو جاتے ہیں، اسی طرح کچھ معاملات بہت بڑے اور خطر ناک معلوم ہوتے ہیں، لیکن ایک تحقیق اور تفتیش کا عمل ساری قلعی کھول دیتا ہے کہ تم سے کیا کہا جارہا تھا اور حقیقت کیا کچھ ہے۔

غیبت کرنے والے کی عجیب کم زوری

شیخ سعدی رحمة اللہ علیہ نے بڑی عجیب بات ذکر فرمائی کہ ”جو شخص آپ کے پاس آکر کسی کی غیبت کرتا ہے، کسی کا بر اتذ کرہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسروں کے پاس جا کر آپ کا بھی بر اتذ کرہ کرتا ہو گا“۔ کیوں کہ اس کے اندر ایسا مرض موجود ہے جسے یہ اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتا۔ آپ کو بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ تو میرے ساتھ ہے، لیکن مجلس برخاست ہوتے ہی وہ کسی اور کے ساتھ ہو جاتا ہے اور وہاں پر آپ کی ذات کو موضوع بناتا ہے۔

جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے نقصانات

اللہ رب العزت نے ایسے لوگوں سے متعلق یہ حکم بیان فرمایا کہ اگر کبھی ایسا ہو جائے کہ آپ کے پاس کوئی غیر محتاط آدمی آجائے اور کوئی بات بتائے تو فورا اس کی بات پر یقین مت کرنا، بلکہ پہلے خوب تحقیق سے کام لینا اور بات کو مستند ذرائع سے سمجھنے کی کوشش کرنا۔ تحقیق سے بات معلوم ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ جلد بازی میں کوئی قدم مت اٹھانا، کیوں کہ بغیر تحقیق کے کوئی بھی قدم اٹھانا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بعد میں یہ کہنا پڑے کہ ”کاش! میں فلاں کی باتوں میں نہ آتا“، ”پہلے بات کی تصدیق کر لیتا“ وغیرہ۔

گھریلو ناچاقیاں

اسی طرح گھریلو زندگی میں جہاں بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، ظاہر ہے جب کچھ لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں تو انسانی طبیعت کے مختلف ہونے کی وجہ سے کافی معاملات پیش آ سکتے ہیں، تبھی علماء فرماتے ہیں کہ گھریلو زندگی احسان کے اصول کو اپنائے بغیر نہیں گزاری جا سکتی، لہٰذا اگر کوئی شخص ہر چھوٹی موٹی بات کا بدلہ لینا شروع کر دے، ہر وقت گھر والوں کے رویوں کا، باتوں کا، گلہ کرنے لگے تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور سکون ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل پاتا، مثلا گھر میں زبان سے کسی کے بارے میں کوئی بات نکل جاتی ہے، لیکن سننے والا اس بات کو بنا سنوار کر آگے بتادیتا ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ تو آپ کے بارے میں ایسا کچھ کہہ رہا تھا، فلاں کے سامنے آپ کا نام آیا تو اس نے اس طرح کا منھ بنایا، ناگواری دکھائی، آپ کی یہ چیز اٹھا کر لے گیا، آپ کی کمائی یا کھانے پینے پر ایسا ایسا کہا گیا وغیرہ وغیرہ۔

اصولی بات

ایسے تمام معاملات کی صورت ایک اصول یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو مجھے یہ سب بتا رہا ہے وہ خود کیسا ہے؟ اس کی بات میں کتنا وزن ہے؟ اس کی بات کا یقین کیا جائے یا نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ہر جگہ یہی کرتا ہے؟ جیسے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر کسی کے پاس جا کر کوئی نہ کوئی ایسی گرما گرم بات ضرور کر دیتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا، فلاں نے یہ کیا، فلاں علاقے میں یہ ہوا۔ ایسے لوگ نیوز رپورٹر کی طرح ہر ایک کے پاس خبریں پہنچاتے رہتے ہیں، جو در حقیقت سنجیدگی سے سے سننے کے لائق ہی نہیں ہیں، نہ ہی اعتبار کے قابل ہیں۔

میاں بیوی کا عجیب واقعہ

ایک مرتبہ شوہر کو اپنی بیوی پر شک ہو گیا کہ تم حاملہ ہو، لیکن یہ میری اولاد نہیں ہے، بلکہ کسی اور کی اولاد ہے تو اس کی اہلیہ نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ ٹیسٹ کرواتے ہیں، پھر معلوم ہو جائے گا کہ یہ اولاد آپ ہی کی ہے یا نہیں۔ جب ٹیسٹ کروایا تو رپورٹ کے مطابق ڈی این اے شوہر کا نہیں تھا، بلکہ کسی اور کا تھا، شوہر نے بیوی کو کھڑے کھڑے تین طلاقیں دے دیں، لیکن اسی وقت کا ؤنٹر سے آواز آئی کہ ہم نے آپ کے ہاتھ غلط رپورٹ تھما دی تھی، جب کہ آپ کی رپورٹ یہ ہے اور اس رپورٹ کے مطابق وہ اس کا اپناڈی این اے تھا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے بہت سے گھر یلو معاملات ہیں جن میں بڑی سختی اور جذباتیت کے ساتھ ہم قدم اٹھاتے ہیں، لیکن کچھ ہی وقت میں ہمیں بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت پچھتاوا ہوتا ہے کہ کاش ہم پہلے اس بات کی تصدیق کرتے، پھر اس کے بعد کوئی قدم اٹھاتے، لیکن تب وقت ہمارا ساتھ نہیں دیتا۔

جھوٹے شخص کی نشانی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ ”انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ وہ جو بھی سنے بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دے“ (صحیح مسلم)۔ یعنی ایسا شخص جس کی عادت ہے کہ سنتے ہی اگل دیتا ہے، سنتے ہی سب کو سنا دینا، یہ عادت ہی اس کے جھوٹا ہونے کی نشانی ہے۔

سوشل میڈیا اور سنی سنائی کی بھرمار

آج کل سوشل میڈیا اور ٹکنالوجی کا دور ہے، ایک ہاتھ میں پوری دنیا کی خبریں آجاتی ہیں، لیکن اس بات کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ خبریں کہاں سے آرہی ہیں؟ ان کا ذریعہ کیا ہے؟ عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ کوئی کسی کے پاس کوئی حدیث بھیجتا ہے تو وہ فورا ًسے یقین کر لیتا ہے اور دوسروں کو فار ورڈ کر دیتا ہے، جب کہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس میں حوالہ بھی درج ہے یا نہیں، سند کے اعتبار سے یہ حدیث کس درجہ کی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی بزرگ کا قول ہو اور اسے حدیث بنادیا گیا ہے۔ حضرت علی کے حوالے سے ایسے کئی اقوال سوشل میڈیا پر آتے رہتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح قرآن کی کسی آیت کا ترجمہ ہو تو پہلے یہ تصدیق کرانی چاہیے کہ واقعی اس طرح کی کوئی آیت ہے بھی نہیں،

ترجمہ درست ہے یا غلط؟

اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کہ ہر بات کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر دینا، کسی صحابی سے منسوب کر دینا وغیرہ یہ رویہ ہمارے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دینی باتوں کی نزاکت

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ:
کسی نے مجھ سے منسوب کر کے کوئی ایسی بات کہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرماتے ہیں اور میں نے ایسا نہ کہا ہو تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم سمجھ لے۔ (صحیح مسلم)

ایک مرتبہ میرے اپنے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک ساتھی نے مسیج بھیجا جس میں سورہ ملک کا ترجمہ لکھا ہوا تھا، جو بالکل غلط تھا، یہاں تک کہ اس میں سورہ ملک کی کسی ایک آیت کا بھی ترجمہ نہیں تھا، لیکن عنوان یہی لگایا ہوا تھا۔

ایک صاحب نے واقعہ سنایا کہ:
کچھ برس پہلے انہوں نے انٹرنیٹ پر بہت سی دینی کتابیں سرچ کرنا شروع کیں تو ایک ویب سائٹ جو کہ ”الاسلام“ کے نام سے بنی ہوئی تھی، انہیں لگا کہ اس میں بہت سی اچھی کتا ہیں ہیں اور وہ خوب مطالعہ کرنے لگے، مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ پوری ویب سائٹ ہی قادیانیوں کی ہے، جو آج بھی موجود ہے۔ جسے اگر کوئی عام مسلمان بغیر تحقیق کے پڑھنا شروع کرے تو ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

لہٰذا ایسے معاملے میں علماء اور اہل علم سے تحقیق کرنی چاہیے کہ یہ صحیح بھی یا نہیں، یہ جو مسئلہ سننے کو ملا ہے یہ واقعی دین کا مسئلہ ہے یا نہیں؟

قرآن کریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:

اس قرآن کے ذریعے لوگ ہدایت بھی پاتے ہیں اور گم راہ بھی ہوتے ہیں۔ (بقرہ)

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی خبریں اور معلومات،اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا دور

موجودہ دور معلومات اور ڈیٹا کی دست یابی کا سب سے بڑا دور ہے اور شاید ہی تاریخ میں کبھی اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا اتنی آسانی کے ساتھ دست یاب رہا ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ معلومات اپنی اصل میں کس قدر حقیقت اور سچائی کے قریب ہیں۔ مواد کی بے ہنگم بھر مار بالکل بھی سود مند نہیں، اگر اس کی سند اور سچائی مشکوک ہو جائے۔ اے آئی کے ذریعے معلومات کے حاصل کرنے کا جو ذریعہ آج کل مروج ہو چکا ہے وہ بھی اسی قرین سے ہے، جس میں کسی بھی فن، کسی بھی علم کی معلومات حاصل کرنا ایک کلک کی دوری پر ہے، لیکن تجربہ یہ بتا رہا ہے کہ یہ ساری معلومات در حقیقت ادھوری ہیں اور ان میں نظم وربط نہیں پایا جاتا نہ ہی ان پر فوری یقین کیا جا سکتا ہے، اسی لیے یہ مواد اطمینان کی بجائے مزید شش وپنج میں ڈال دیتا ہے اور ڈھونڈنے والے کو الجھن کا شکار کر دیتا ہے۔

اے آئی کے کام کرنے کا طریقہ کار

اے آئی کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ خود سے کچھ بھی نہیں بتاتا، بلکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں جو جو دست یاب مواد موجود ہے اسی کی مدد سے یہ اپنے صارف کو کچھ معلومات فراہم کرتا ہے، لیکن اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جو مواد اے آئی کا مددگار ہے وہ بھی در حقیقت انسانوں کا ہی تیار کردہ ہے اور ان میں کون کیسی بات، کس پیرائے میں، کس جذبے سے، کس ارادے سے لکھ رہا ہے یہ اے آئی کا سرے سے مسئلہ ہی نہیں ہے اور اے آئی مواد کی تحقیق وتفتیش بھی نہیں کرتا، نہ اسے محقق سے واسطہ ہے اور نہ ہی منہج تحقیق سے۔ الغرض اے آئی عقیدہ، عمل، فن تحقیق اور سند واستناد سے ماورا ہو کر صرف مواد پر ہی زور ڈالتا ہے۔ لہٰذا اگر مواد کوئی بہت بڑا جھوٹا اور اپنی طرف سے گھڑنے والا شخص پیش کر رہا ہے تب بھی یہ اس مواد کو فقط مواد کی نظر سے دیکھے گا اور اگر وہ مواد کسی بہت بڑے سچے اور اعلی پائے کے محقق کا ہو، لیکن بد قسمتی سے وہ انٹرنیٹ کی دنیا میں دستیاب نہ ہو تو اے آئی اس مواد کو نظر انداز کر دے گا۔

خطرے کی گھنٹی

اس سے اندازہ جا سکتا ہے کہ اے آئی کی فراہم کردہ تفصیلات کس قدر غلط مواد کی طرف رہ نمائی کر سکتی ہے اور اضافہ یہ کہ وہ کسی قادیانی کے پیش کردہ مواد کو بھی اسلامی مواد کا عنوان دے سکتا ہے، کسی گم راہ شخص کی رائے کو بھی تفسیر، حدیث، فقہ جیسے اعلیٰ مضامین کی تفہیم کے لیے پیش کر سکتا ہے۔

اے آئی اور عالمی ماہرین

ماہرین اور عالمی خبروں کے مطابق اے آئی میں مزید کچھ ایسی خامیاں موجود ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مثلا اے آئی میں اکثر ڈیٹا مغربی نقطہ نظر کو سامنے رکھ پیش کیا جاتا ہے، جس میں مشرقی نقطہ نظر کو بالکل بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا، حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ مغرب اس وقت الحادی علوم کا مرکز بن چکا ہے۔

اسی طرح یہ ٹکنالوجی مذہب، ثقافت، اقدار، جغرافیائی حدود وغیرہ جیسے بنیادی فرق کا امتیاز قائم کرنے میں دن بہ دن ناکام ثابت ہورہی ہے، جسے خود بہت سے مغربی مفکرین مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

اے آئی ویڈیوز

جہاں تک اے آئی ویڈیوز کا تعلق ہے وہ بہت سے لوگوں کے لیے جھانسے میں آنے کا ایک عام ذریعہ بن چکا ہے، ہمارے ہاں عام طور پر کوئی چیز اگر ویڈیو کی شکل میں پیش کی جاتی ہے تو اسے مشاہدے کی قوت کے سبب سے بڑی دلیل مانا جاتا ہے اور اسے آنکھوں دیکھا حال قرار دے کر سند دیتے ہیں، لیکن اے آئی نے اس غلط فہمی سے نکلنے کے بہت سارے اسباب جمع کر دیے ہیں لہٰذا ایسی ویڈیوز اب بھاری بھر کم تعداد میں موجود ہیں، جن کو شروع میں حقیقت سمجھا جارہا تھا، لیکن کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ سب مصنوعی ہے۔ آواز بدلنا، کردار بدلنا، گرد وپیش کے ماحول کو بدلنا اور یہ سب انٹرٹینمنٹ کی حد تک تھا تو تھا، لیکن اب یہ لوگوں کی ذاتیات تک کو موضوع بنانے لگا ہے، جس کے بعد کوئی بھی شخص اپنی ذات سے محفوظ نہیں، ہر ادارہ اپنی سیکیورٹی کو لے کر پریشان ہے اور یہ سب کا سب بڑھتا ہی جارہا ہے، جس سے عقائد ونظریات، اخلاق واقدار، ثقافت وتہذیب کچھ بھی محفوظ نہیں، کبھی بھی کچھ بھی بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے اور کسی پر کچھ بھی تھوپا جا سکتا ہے۔

علمائے امت کی دور اندیشی

ایسے حالات میں ان علماء ومشائخ کی دقت نظری کو سلام پیش کرنا چاہیے جنہوں نے یہ حالات آنے سے قبل ویڈیوز اور تصاویر کی حرمت پر زور ڈالا اور بڑے ہی بے باک انداز میں اس کی حرمت کا فتوی جاری کیا اور اب تک اسی پر قائم ہیں اور پھر دوسری طرف ایسے بڑے جید علمائے کرام بھی ہیں جو تصویر ویڈیو کے کسی حد تک استعمال کو تو جائز قرار دیتے ہیں، لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سارے حالات ان کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان بن کر کھڑے ہیں۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ایسے حالات میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اے آئی کے استعمال سے روکا نہیں جارہا، نہ ہی اس کی حرمت وحلت فی الحال زیر بحث ہے، لیکن اے آئی کا اندھا مقلد بن جانا اور وہ جیسی تیسی معلومات فراہم کرے اسے فورا حرف آخر سمجھنا یہ بڑی نادانی کا عمل ہے۔ لہٰذا خبر کی تحقیق یہاں بھی اسی درجے میں لازم ہے جہاں دوسرے امور میں اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

خلاصہ

معلوم ہوا کہ کوئی بھی بات، چاہے دین کے حوالے سے ہو یا گھریلو حوالے سے، آپس کے تعلقات ہوں یا معاشرے کے اتار چڑھاؤ، پہلے تحقیق کرنا ہم پر لازم ہے۔ خاص طور پر جب بات دین کے حوالے سے ہے تو جو بات کو بیان کرنے والا ہے وہ کوئی مستند عالم بھی ہے؟ اس نے جہاں سے تعلیم حاصل کی ہے وہ مستند ادارہ ہے؟ دین اتنا سستا نہیں کہ کوئی بھی کیمرے کے سامنے بیٹھ کر فتوے جھاڑنے لگے، کچھ ویڈیوز دیکھ کر عقیدہ نہیں سمجھا جاسکتا، ہزاروں علماء سے بدظن ہو کر ہم سوشل میڈیا کے قریب ہو سکتے ہیں، لیکن دین کے نہیں۔