کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یمین، نذر اور تعلیق میں احناف کے لیے مسلک غیر پر کب فتویٰ دینا جائز ہے؟ موجودہ حالات میں کم علمی یا حالات کے نزاکت کو دیکھتے ہوئے لوگ ایسی قسمیں کھا لیتے ہیں جن کا پورا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ جیسے کہ کسی کے قتل کی قسم کھائی یا کوئی ایسی قسم کھالی جس کو پورا کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔
بسا اوقات ایسی نذر مان لیتے ہیں کہ جن سے وہ عاجز آجاتے ہیں جیسے کہ کسی نے نذرمان لی کہ اگر میرے بیٹے کو نوکری مل گئی تو میں پوری زندگی ہر ماہ 10 روزے رکھوں گا۔
یا کسی نے یوٹیوب چینل کھولا اور یہ نذرمان لی کہ میرے جتنے سبسکرائبرز (subscribers) ہونگے اتنی تعداد میں دن میں رکعات پڑھوں گا، اب سبسکرائبرز 1000 ہو گئے تو اب وہ نذر پوری کرنے سے عاجز ہے (نیز بسا اوقات سبسکرائبرز 10 ہزار اور لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں)
بسا اوقات ایسی تعلیق کر لیتے ہیں جس کو پورا کریں تو طلاق ہو جائے گی اور اگر نہ پورا کریں تو رجوع نہیں ہے، جیسے کسی شوہر نے اپنی بیوی سے جھگڑے میں کہا کہ اگر تم نے اپنے والد یا بیٹے کے گھر میں قدم رکھا تو تمہیں طلاق۔ کچھ دن بعد جھگڑا ختم ہو جاتا ہے تو اب وہ بیوی پھنس گئی ہے کہ والد یا بیٹے کے گھر قدم نہیں رکھ سکتی ور نہ طلاق ہو جائے گی۔
تو ان حالات میں کیا اس طرح کی نذر، قسم اور تعلیق میں رجوع کی یا مسلک غیر پر فتوی دے کر کچھ تخفیف پیدا کرنے کی گنجائش ہے کہ نہیں؟
نیزموجودہ حالات میں کیا مذکورہ بالا مسائل میں کچھ نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ نہیں؟ جبکہ حالات بہت سخت ہیں، امت کافی پریشان ہے اور کم علمی میں ایسی چیزوں کو کر بیٹھتی ہے جن کو پورا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ آپ حضرات سے درخواست ہے کہ اس پر ائمہ اربعہ کی آراء اور موجودہ دور میں ان مسائل میں نرمی برتتے ہوئے مسلک غیر پر اجازت دینے کی حاجت کو واضح فرما کر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں گے۔
صورت مسئولہ میں مذکور تمام مسائل کا حل خود مذہب حنفی میں موجود ہے، اس لئے ان مسائل میں دوسرے مذہب پر عمل کرنا درست نہیں، ہر مسئلے کا حکم علیحدہ سے بیان کیا جاتا ہے۔
۱… کسی کو قتل کرنے کی قسم کھانا گناہ ہے، اور اس لئے قسم کھانے والے پر حانث ہونا اور قسم کا کفارہ ادا کر نا واجب ہے۔
۲…ایسی قسم کھانا کہ جس کو پورا کرنے سے حالف ( قسم کھانے والا) عادتاً عاجز ہو، اس صورت میں قسم کھاتے ہی حالف حانث ہو جاتا ہے اور اس پر کفارہ یمین لازم ہوتا ہے۔
۳… یہ نذر ماننا کہ اگر میرے بیٹے کو نوکری مل گئی ، تو میں پوری زندگی ہر ماہ دس دن روزے رکھوں گا، تو نوکری ملنے کی صورت میں زندگی بھر ہر ماہ دس دن روزے رکھنا اس پر واجب ہو جاتا ہے، لیکن اگر کسی وجہ سے کسی مہینے میں روزے چھوٹ جائیں، تو کسی دوسرے مہینے میں اس کی قضاء کرلے، اور اگر اس کا ذریعہ معاش ایسا ہو کہ جس میں مشقت ہونے کی وجہ سے اس کے لئے روزے رکھنا مشکل ہو یا بیماری یا انتہائی بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے، تو ہر روزے کے بدلے فدیہ ادا کر تا رہے، لیکن اگر غربت کی وجہ سے فدیہ کی ادائیگی پر قادر نہ ہو، تو پھر کثرت سے استغفار کرتا رہے، امید ہے کہ اللہ تعالی اس کو معاف فرمائیں گے۔
۴… یہ نذر مانا کہ میرے جتنے سبسکر ائبر ز ہوں گے اتنی تعداد میں دن میں رکعات پڑھوں گا اور سبسکر ائبر زاتنی تعداد تک پہنچ جائیں کہ اس کے برابر رکعات پڑھنے سے عاجز ہو، تو وہ حانث ہو جاتا ہے اور اس پر کفارہ یمین لازم ہو جاتا ہے۔
۵… اس طرح کے الفاظ کے ساتھ طلاق کو معلق کرنا کہ ”اگر تم نے اپنے والد یا بیٹے کے گھر قدم رکھا، تو تمہیں طلاق“ اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گی، اور اس کا حل موجود ہے کہ طلاق کے بعد رجوع کرلے۔لما في البحر الرائق:’’قوله: (ومن حلف على معصية ينبغي أن يحنث) بيان لبعض أحكام اليمين وحاصلھا أن المحلوف عليه أنواع، فعل معصية أو ترك فرض، فالحنث واجب وهو المراد بقوله: ينبغي أن يحنث أي: يجب عليه الحنث لحديث البخاري عن عائشة عن النبي: من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصي الله فلا يعصه وحديث البخاري أيضا: وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منھا فأت الذي هو خير وكفر عن يمينك‘‘. (كتاب الأيمان: 490/4، رشيدية)وفيه أيضا:’’قوله: (حلف ليصعدن السماء أو ليقلبن هذا الحجر ذهبا حنث للحال) يعني عندنا وقال زفر لا تنعقد لأنه مستحيل عادة فأشبه المستحيل حقيقة ولنا أن البر متصور حقيقة‘‘. (كتاب الأيمان: 556/4، رشيدية)وفي الفتاوى الھندية:’’ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم ولو لم يقدر لشدة الزمان كالحر فله أن يفطر وينتظر الشتاء فيقضي‘‘. (كتاب الصوم: 209/1، رشيدية)وفي سنن أبي داود:’’عن ابن عباس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من نذر نذرا لم يسمه فكفارته كفارة يمين، ومن نذر نذرا في معصية فكفارته كفارة يمين، ومن نذر نذرا لا يطيقه فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا أطاقه فليف به‘‘. (كتاب الأيمان والنذور: 676، رقم الحديث: 3322، رشيدية)وفي تكملة فتح الملھم:’’ثم إن الكفارة في النذر تجب في صور مختلفة: الأولى: أن يقول: الله علي نذر، فعليه الكفارة...... والثانية: أن ينذر شيئا، ثم لا يطيق الوفاء به، فعليه الكفارة، إلا في صور مخصوصة، كالنذر بالمشي إلى بيت الله، إو النذر بذبح ولده، فإنه يلزمه دم فيھما‘‘. (كتاب النذر: 174/2، دار العلوم)وفي الھداية:’’وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق‘‘. (كتاب الطلاق: باب الإيمان في الطلاق، 385/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/314