گھر کے اجتماعی نظام میں قربانی کس پر واجب ہے؟

گھر کے اجتماعی نظام میں قربانی کس پر واجب ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گھر میں سب بھائی اکھٹے رہتے ہیں اور گھر بھی کرایہ کا ہے اور سب بھائی کما کر  اپنے والد صاحب کو پیسے دیتے ہیں، ان میں سے دو بڑے بھائی دوکان چلاتے ہیں اور اس سے گھر کا خرچہ چلتا ہے اور ان سب بھائیوں میں سے کسی کے پاس بھی نصاب کے برابر مال نہیں ہے، نہ ہی ان کے والد صاحب کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ قربانی ان پر واجب ہے یا نہیں؟ اور اجتماعی خرچہ میں کس کا اعتبار ہوگا، یعنی گھر کا بڑا اور ذمہ دار والد صاحب ہی ہے، کیا دوکان کی وجہ سے(جس میں نصاب سے زیادہ مال موجود ہے) باپ پر قربانی واجب ہوگی؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ بھائیوں میں سے ہر ایک کے پاس اسمارٹ فون بھی ہے، تو کیا یہ بھی نصاب میں شمار ہوگا، یا ضرورت میں داخل ہے؟
تنقیح: کاروبار والد صاحب کا ہے، لیکن بیٹے بطور شاگرد کام کرتے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں کاروبار چونکہ والد صاحب کا ہے اور والد صاحب صاحب نصاب ہیں، تو ان پر قربانی واجب ہے، بیٹوں میں سے ہرایک الگ الگ نصاب کا مالک نہیں، تو ان پر قربانی واجب نہیں، نیزاسمارٹ فون ایک عددہو، اگر وہ استعمال میں ہو، تو وہ وجوب قربانی کے نصاب میں میں شامل نہیں۔
لما في البدائع:
’’وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شئ فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة وهذا قول عامة العلماء‘‘. (كتاب الزكاة، فصل في  نصاب أموال التجارة: 2/ 415: رشيدية)
وفي البحر:
’’قوله:(وفي عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) معطوف على قوله أول الباب في مائتي درهم أي يجب ربع العشر في عروض التجارة إذا بلغت نصابا‘‘.(كتاب الزكاة، باب في زكاة المال: 398/2: رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 192/216