گندم، آٹا، چینی، گھی وغیرہ ادھار لینے کا حکم

گندم، آٹا، چینی، گھی وغیرہ ادھار لینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم لوگ دیہاتوں کے رہنے والے ہیں ایک دو ماہ کا راشن ایک مرتبہ لاتے ہیں، بسا اوقات گھر میں آٹا، چینی، گھی وغیرہ ختم ہو جاتا ہے، تو ہم پڑوسیوں سے ادھار لیتے ہیں، پھر جب ایک دو دن بعد بازار جاتے ہیں، تو اپنے گھر کی اشیاء لا کر ادھار پر لی ہوئی چیز واپس کر دیتے ہیں، یہ طریقہ مذکورہ عام اکثر لوگ اس طرح کرتے ہیں، اس پر کسی نے کہا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے، یہ سود ہے، جنس کو جنس کے بدلے ادھار لینا جائز نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ایسے ہی ہم پورے سال کا گندم رکھتے ہیں، لیکن جب سال کے آخر میں ختم ہوتی ہے، تو ان لوگوں سے گندم ادھار لیتے ہیں، جن کی گندم جلدی پک کر تیار ہوتی ہے، پھر جب ہماری گندم تیار ہوتی ہے، تو انہیں واپس کر دیتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اگر ایسا نہ کریں تو حرج عظیم لازم آتا ہے، آپ حضرات سے گزارش ہے کہ شریعت کی رو سے ہماری مکمل رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ آٹا، چینی، گھی اور اس طرح کی دیگر اشیاء جن کا لین دین ناپ کر یا تول کر ہوتا ہے، جن کو اشیاء ربویہ بھی کیا جاتا ہے، ان کی خرید و فروخت میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہاتھ درہاتھ ہو، ادھار نہ ہو ورنہ سود لازم آئے گا  اور اگر دونوں طرف سے جنس ایک ہو، تو برابری کا ہونا بھی لازم ہے، البتہ قرض کے طور پر جو لین دین ہوتا ہے، تو اس میں ادھار جائز ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں ایک گھر والے ضرورت پڑنے پر دوسرے گھر والوں سے آٹا، چینی، گھی وغیرہ بطور قرض لیتے ہوں، تو چونکہ یہ قرض کا معاملہ ہے، اس لئے اس میں ادھار جائز ہے، یہ خرید و فروخت کا معاملہ نہیں ہے، چنانچہ جس طرح رقوم بطور قرض لے کر کچھ عرصہ بعد واپس کرنا درست ہے، اسی طرح ان اشیاء کو بطور قرض لے کر کچھ مدت بعد لوٹانا درست ہے۔
اسی طرح گندم کے بدلے گندم ادھار لینا جائز ہے، بشر طیکہ ادھار لی ہوئی گندم کی مقدار معلوم و متعین ہو اور اتنی ہی گندم واپس کی جائے، اندازے سے گندم کی ادھار کا لین دین جائز نہیں ہے، صورت مسئولہ میں اگر گندم کی مقدار معلوم و متعین کر کے معاملہ کرتے ہوں، تو یہ معاملہ جائز ہے۔
لما في الدر مع الرد:
’’(هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستھلاك.... (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض) وكاغد عددا (ولحم) وزنا وخبز وزنا وعددا كما سيجيء (قوله في مثلي) كالمكيل والموزون والمعدود المتقارب كالجوز والبيض‘‘. (كتاب البيوع، فصل في القرض: 7/ 406-408، رشيدية)
وفي الھندية:
’’ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون والعددي المتقارب كالبيض ولا يجوز فيما ليس من ذوات الأمثال كالحيوان والثياب والعدديات المتفاوتة‘‘. (كتاب البيوع الباب التاسع عشر في القرض: 190/3، دارالفكر)
وفي الدر مع الرد:
’’وفيها استقراض العجين وزنا يجوز‘‘.
’’قوله: (استقراض العجين وزنا يجوز) هو المختار مختار الفتاوى واحترز بالوزن عن المجازفة فلا يجوز‘‘.(كتاب البيوع، فصل في القرض: 415/7، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/130