کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سنت مؤکدہ میں قیام فرض ہے، یا بلاعذر بیٹھ کر بھی ان کو ادا کیا جاسکتا ہے؟
سنن مؤکدہ میں قیام فرض نہیں، اگرچہ بلا عذر بیٹھ کر پڑھناجائز ہے، لیکن نماز فجر کی سنت میں قیام ضروری ہے، بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں۔لما في ردالمحتار على درالمختار:’’(ومنها القيام)... (في فرض) وملحق به كنذر وسنة فجر في الأصح. وسنة الفجر لا تجوز قاعدا من غير عذر بإجماعهم‘‘.(كتاب الصلاة، بحث القيام، 2 /163،164، رشيدية)وفيه أيضا:’’(و) السنن (آكدها سنة الفجر) اتفاقا، ثم الاربع قبل الظهر في الاصح، لحديث من تركها لم تنله شفاعتي ثم الكل سواء (وقيل بوجوبها، فلا تجوز صلاتها قاعدا) ولا راكبا اتفاقا (بلا عذر) على الاصح... (بخلاف باقي السنن)‘‘.’’قوله: (على الأصح) ...أقول:... عن أبي حنيفة: لو صلى سنة الفجر قاعدا بلا عذر لا يجوز‘‘. (كتاب الصلاة، مطلب في السنن والنوافل، 2 /548-549، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:190/249