کنچے کھیلنے کا حکم

کنچے کھیلنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کنچے (بنٹے) کھیلنے کا حکم کیا ہے؟
یہ بچوں کا ایک کھیل ہے۔ جس میں بچے کنچے دوسرے کنچوں پر مختلف طریقوں سے مارتے ہیں۔ اسکے کھیلنے کے اور بھی طریقے ہیں، پر جو بچہ کھیل ہارتا ہے وہ اپنے کنچے جیتنے والے بچے کو دیتا ہے۔
نیز اگر کسی نے بلوغت سے پہلے (بچپن میں) یہ کھیل کھیلا ہوا اور اس نے کھیل میں بہت سے بچوں کے کنچے لیے ہوں اور اس نے بھی بہت سے بچوں کو کنچے دیے ہوں تو (بلوغت کے بعد) اب اسکا کیا حل ہے؟ اب تو یہ یاد بھی نہیں کہ کس کے ساتھ کنچے کھیلے تھے اور کس سے کتنے کنچے لیے تھے یا دیے تھے وغیرہ۔اب کیا یہ شخص گناہ گار ہو گا کیونکہ یہ عمل تو جب ہوا تھا اس وقت وہ نا بالغ تھا؟
اس شخص کے ذمے کیا بعد بلوغت حق العبد رہے گا کیونکہ کنچوں کی بھی کچھ مالیت تو ہوتی ہے؟ یا اس عمل کے ذمہ داران بچوں کے اولیاء ہونگے کیونکہ اس عمل کے وقت یہ بچے نابالغ تھے؟

جواب

واضح رہے کہ کنچے میں جوا کھیلنا شرعا نا جائز و حرام ہے، اور ان جیسے کھیلوں سے بچوں کو دور رکھنا ان کے سر پرستوں کی ذمہ داری ہے، اگر ان کے سر پرستوں کو یہ معلوم ہے کہ ہم جو پیسے اپنی اولاد کو دیتے ہیں ان سے (کنچے وغیرہ سے) جوا کھیلتے ہیں، پھر بھی پیسے دیتے ہیں اور روکتے بھی نہیں، تو اس صورت میں گناہ گار ہوں گے، اس لیے ان کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے، اور اگر بچے چپکے سے جوا یا ان جیسے دیگر کھیل کھیلتے ہیں، اور ان کے سر پر ستوں کو اس بارے میں علم نہ ہو اور پتہ چلتے ہی ان کو ہر ممکن طریقے سے منع کرنے کی کوشش کرتے رہیں، تو اس صورت میں ان کے سر پرست گناہ گار نہیں ہوں گے، اور بلوغت سے پہلے چونکہ بچے بھی مکلف نہیں ہوتے، اس لیے ان کا بھی کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
تاہم گناہ نہ ہونے کے باوجود شرعی طور پر بچہ کے ذمہ متاثر ہونے والے شخص (جس سے کنچے لیے ہیں) کا حق ساقط نہیں ہوتا، بلکہ بدستور ذمہ میں برقرار رہتا ہے، جس کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہو، تو وہ کنچے یا اس کی رقم مالک کو دینا ضروری ہے، اگر اس کا مالک انتقال کر گیا ہے، تو اس کے ورثہ کو دینا ضروری ہے، اگر مالک معلوم نہیں اور نہ ہی ضائع کردہ مال کی مقدار معلوم ہے (جیسا کہ سوال سے معلوم ہو رہا ہے) تو ایک محتاط اندازہ لگا کر اس سے کچھ زائد رقم بلانیت ثواب غرباء پر مالک کی طرف سے صدقہ کرے، تو ان شاء اللہ عند اللہ ذمہ بری ہو جائے گا۔
لما في التنزيل :
﴿يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾. (سورة المائدة، الآية: 90)
وفيه أيضا:
﴿يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾. (سورة النساء، الآية: 29)
وفي سنن أبي داود:
عن عائشة رضي الله تعالى عنھا، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن المبتلى حتى يبرء، وعن الصبي حتى يكبر. (كتاب الحدود، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا: 2/ 256، رحمانية)
وفي معارف السنن:
”قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقھائنا رحمھم الله كالھداية، وغيرها: أن من ملك بملك خبيث، فسبيله التصدق على الفقراء... قال: والظاهر أن المتصدق بمثله أن ينوي به فراغ ذمته، ولا يرجوبه المثوبة“. (ابواب الطھارة، باب ماجاء لا يقبل صلاة بغير طھور، 34/1، الشرفية)
وفي البناية في شرح الھداية:
قال: وإن استھلك ما لا ضمن يريد به من غير إيداع؛ لأن الصبي يؤاخذ بأفعاله، وصحة القصد لا معتبر بھا في حقوق العباد والله أعلم بالصواب. قال محمد رحمه الله تعالى في الجامع الصغير: (وإن استھلك مالا ضمن أى وإناستھلك الصبي مالاً لرجل ضمن، وهذا في غير الوديعة، وهو معنى قوله: ويريد به من غير إبداع) أي: يريد محمد رحمه الله تعالى بقوله : ضمن في غير الوديعة، وفيه إنفاق، وفي الوديعة إذا استھلكھا خلاف سبق أنھا؛ ولأن الصبى يؤاخذ بأفعاله) فإن قلت: رفع القلم عن الصبي بالحديث، فكيف وجب عليه الضمان، قلت رفع القلم يدل على رفع الاثم، ولا يلزم من رفع الا ثم نفى الضمان، كما في النائم إذا انقلب على شيء فأتلفه، (وصحه القصد لا معتبر بھا في حقوق العباد) هذا كأنه جواب عما يقال: إن الصبي ليس له قصد صحيح، فكان ينبغي أن لا يضمن، فقال: لا إعتبار لصحة القصد في حقوق العباد ألا ترى أن البالغ أيضا إذا استھلك مالاً لانسان، فيضمن سواء كان له قصد صحيح في ذلك، أولم يكن فعلى أى وجه كان يلزمه الضمان. (والله أعلم بالصواب). (كتاب الديات، باب غصب العبد.. الصبي: 188/16، الحقانية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/152