کمپنی کا ملازم کو زکوٰۃ دینے کا حکم

کمپنی کا ملازم کو زکوٰۃ دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک کمپنی میں 13 سال سے 12 گھنٹے ڈیوٹی کرتا ہوں، 8 گھنٹے کی تنخواہ 27000 روپے ہے ،سال میں رمضان کے مہینے میں کمپنی مالک ہمیں زکوٰۃ دیتے ہیں، جو کہ 5000 ہوتی ہے ، ہم 36 آدمی ہیں، جو دن رات ڈیوٹی کرتے ہیں ، اسی تنخواہ میں گزارہ کرتے ہیں، کسی کا کرایہ کا مکان ہے ، اور کسی کا اپنا ہے، اس تنخواہ میں گزارہ بہت مشکل سے چلتا ہے ، سال بھر میں ہمارے پاس کوئی روپیہ پیسہ جمع نہیں ہوتا، میں سال بھر میں ایک بار کپڑے لیتا ہوں، وہ بھی رمضان المبارک میں جو کہ پورا سال چلتے ہیں ، میں جس گھر میں رہتا ہوں وہ میری والدہ اور ہم تین بھائیوں کا ہے۔
آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ ہم لوگ زکوٰۃ کی رقم لے سکتے ہیں کہ نہیں ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً آپ مستحق ہیں، تو زکوٰۃ لے سکتے ہیں، البتہ مانگنے کی شرعا اجازت نہیں ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے شرط یہ ہے کہ زکوٰۃ تنخواہ کی مد میں نہ دی جائے۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(هو فقير، وهو من له أدنى شىئ) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة وله: (مستغرق في الحاجة) كدار السكني وعبيد الخدمة وثياب البذلة وآلات الحرفة وكتب العلم للمحتاج إليھا تدريسا أو حفظا أو تصحيحا كما مر أول الزكاة. والحاصل أن النصاب قسمان: موجب للزكاة وهو النامي الخالي عن الدين.
وغير موجب لھا وهو غيره، فإن كان مستغرقًا بالحاجة لمالكه أباح أخذها، وإلا حرمه وأوجب غيرها من صدقة الفطر والأضحية ونفقة القريب المحرم كما في البحر وغيره‘‘. (كتاب الزكاة، 333/3، رشيدية)
وفي الھندية:
’’الباب السابع في المصارف: منھا الفقير وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة‘‘. (كتاب الزكاة، 249/1، دارالفكر بیروت)
وفي فتح القدير:
’’قوله: (والفقير من له أدنى شيء)، وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة والمسكين من لا شيء له فيحتاج للمسألة لقوته أو ما يواري بدنه ويحل له ذلك بخلاف الأول حيث لا تحل المسألة له فإنھا لا تحل لمن يملك قوت يومه بعد سترة بدنه، وعند بعضھم: لا تحل لمن كان كسوبا أو يملك خمسين درهمًا، ويجوز صرف الزكاة لمن لا تحل له المسألة بعد كونه فقيرًا ولا يخرجه عن الفقر ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة‘‘. (كتاب الزكاة، 266/2، دار الكتب).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/25