کلیئرنگ ایجنٹ کا ایک لاکھ کے عوض پانچ یا چھ ہزار روپے زائد دینا

کلیئرنگ ایجنٹ کا ایک لاکھ کے عوض پانچ یا چھ ہزار روپے زائد دینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے۔
سب سے پہلے میں ایک کلیئر نگ ایجنٹ ہوں، کلیئرنگ کے حوالے سے مسئلہ درپیش ہے کہ جو کہ کنٹینر سیکورٹی دیپوزٹ کے حوالے سے ہے۔
کلیئرنگ کے لیے مجھے مال والے سے (BL) ملتا ہے (BL) پر مال اور کنٹینر کی تفصیل ہوتی ہے، جو کہ کنٹینر شپنگ لائن کی ملکیت ہوتی ہے اس کنٹینر کا ہم سے شپنگ لائن چار لاکھ سے آٹھ لاکھ تک ایک کنٹینر کا سیکورٹی ڈیپورٹ لیتا ہے جو دینا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ڈیلیوری آرڈر نہیں ملتا، جو سیکورٹی ڈیپوزٹ ہم نے جمع کیا ہوتا ہے وہ تب تک واپس نہیں ملتا جب تک کنٹینر واپس نہیں آتا، بغیر کسی نقصان یا تاخیر کے۔
شپنگ لائن کی طرف سے کنٹینر کے چودہ سے چالیس دن فری ہوتے ہیں، اگر ایک دن بھی تاخیر ہو جائے تو شپنگ لائن تیس ڈالر سے ایک سو پچاس ڈالر تک ایک دن کا (DETENTION) چارج کرتا ہے جو کلیئرنگ ایجنٹ نے ادا کرنا ہوتا ہے، لہذا ہمیں سیکورٹی ڈیپوزٹ کے لئے انویسٹرکی ضرورت پڑتی ہے، ہم ان سے جو پیسے لیتے ہیں وہ ایک لاکھ کے عوض ہم سے 5000 سے 6000 روپے چارج کرتا ہے، یہ چار جز بھی کلیئرنگ ایجنٹ مال والے سے چارج کرتا ہے، مطلب مال والے سے وصول کرتا ہے۔
لہذا ہمیں یہ بتایا جائے کہ جو 5000 سے 6000 ہم دے رہے ہیں کیا شریعت میں جائز ہے؟ یا سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟ اگر آتا ہے تو ہمیں اس کا جائز طریقہ بتایا جائے۔
یہ کام دو طرح سے ہوتا ہے :
1- کہ انوسٹر ڈائرکٹ کلیئر نگ ایجنٹ کو کیش دیتا ہے یا اکاونٹ میں ٹرانسفر کرتا ہے، اس میں کلیئرنگ ایجنٹ سارا کچھ خود کر لیتا ہے۔
2۔ کہ انوسٹر خود ڈلیوری آرڈر شپنگ لائن سے اٹھا کر کلیئرنگ ایجنٹ کو پہنچا دیتا ہے، مطلب انوسٹر خود سروس دے دیتا ہے۔
نوٹ: انوسٹر نے جو سیکورٹی ڈیپازٹ کے لیے پیسے دیے ہوتے ہیں، اس میں وقت کی کوئی پابندی نہیں ہوتی جب تک کنٹینر واپس نہیں آتا۔

جواب

صورت مسئولہ میں انویسٹر کی طرف سے آپ کو جو پیسے (4 لاکھ سے 8 لاکھ تک) دیئے جاتے ہیں، ان کی حیثیت قرض کی ہے، پھر وہ انویسٹر جو ایک لاکھ روپے کے عوض آپ سے 5000 روپے یا 6000 روپے لیتا ہے ، یہ قرض پر نفع لینا ہے، اور قرض پر نفع لینا سود شمار ہوتا ہے، لہذا یہ اضافی رقم (5000 روپے یا 6000 روپے) دینے سے اجتناب کیا جائے۔
جہاں تک بات ہے جائز صورت کی ، تو جائز صورت یہی ہو سکتی ہے کہ آپ کسی دوسرے ذریعہ سے یاکسی ایسی جگہ ہے پیسوں کا بندو بست کریں جہاں آپ کو اصل رقم سے زائد دینے کا پابند نہ کیا جائے۔
لما في البدائع:
’’وأما الذي يرجع إلى نفس القرض: فھو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز. (إلى قوله) لما روي عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه: ”نھى عن قرض جر نفعا“، ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا‘‘.(كتاب القرض، فصل في الشروط، 597/10، دار الكتب العلمية).
وفي إعلاء السنن:
عن علي امير المؤمنين مرفوعا: ’’كل قرض جر منفعة فھو رہا‘‘. (كتاب الحوالة، باب كل قرض جر منفعة
فھو ربا، 14 /512، إدارة القرآن والعلوم الإسلامية).
وفي الدر المختار:
’’وفي الخلاصة: القرض بالشرط حرام، والشرط لغو... وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام‘‘.
وتحته في الرد:
’’أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر. وعن الخلاصة وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي: لا بأس به‘‘. (كتاب البيوع، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، 413/7، مكتبة رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/99