کسی کے پاس زمین خریدنے کی نیت سے جمع کی ہوئی رقم پر زکوٰۃ

کسی کے پاس زمین خریدنے کی نیت سے جمع کی ہوئی رقم پر زکوٰۃ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے دفتر میں ایک سکیم (تقریبا 5 سال پہلے) نکلی تھی دفتر نے اپنے ملازمین کو رہائش پلاٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے اس سکیم کے کئی شرائط وضوابط ہیں، جن کے تخت ملازمین سے زربیعانہ (یعنی ڈاؤن پیمنٹ) اور ماہوار قسطوں کی صورت میں پلاٹ کی قیمت وصول کی جا رہی ہے اور ملازمین سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ہم نے کافی زمین خرید لی ہے اس میں ہر ملازم کو، جس نے اپنی قسطیں پوری کرلی ہوں گی، دفتر ایک عدد پلاٹ دے دے گا۔
میں نے بھی اس پلاٹ کی سکیم میں پیسے لگاتے ہیں کہ بالاۤخر ایک پلاٹ کی ملکیت مل جائے گی جو کہ بچوں کے لیے اثاثہ بن جائے گا۔تاہم یہ بھی ذہن میں ہے کہ اگر کہیں سے اچھی آفر آئی یا کوئی شدید مجبوری پیش آگئی تو فروخت کردوں گا۔
اس وقت یہ سکیم کافی تاخیر اور التواء کا شکار ہو چکی ہے کئی ایسی پیچیدگیاں اس میں پیدا ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے دفتر والے اور ہم ملازمین (جن کی رقوم جمع ہیں) کافی پریشان ہیں۔ نتیجتا کئی ملازمین نے اپنی جمع شدہ رقم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سکیم کے شرائط کے مطابق دفتر والے ایسے ملازمین سے کچھ کٹوتی (جمع شدہ رقم کا 10فیصد) کے بعد بقایا رقم واپس کر رہے ہیں میں نے بھی اس سکیم میں ساری رقوم ادا کر دی ہیں۔ (زربیعانہ + ماہانہ قسطیں) یہ رقم سوسائٹی کے پاس جمع ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں۔براہ کرم شریعت مبارکہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ میں یہ فریضہ درست طریقہ سے ادا کر سکوں۔

جواب

جی ہاں آپ کی سوسائٹی والوں کے پاس جمع شدہ رقم پر زکوۃ واجب ہے۔
لما في التنوير مع الدر:
”فإذا كان معه دراهم أمسكھا بنية صرفھا إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيھا إذا حال الحول، وهي عنده لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. قلت: وأقره في النھر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقا لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال إنه الحق فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليھا، لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا، وبين ما حال الحول عليه، وهو محتاج منه إلى أداء دين كفارة أو نذر أو حج، فإنه محتاج إليھا أيضا لبراءة ذمته وكذا ما سيأتي في الحج من أنه لو كان له مال، ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذا خرج أهل بلده قبل أن يتزوج، وكذا لو كان يحتاجه لشراء دار أو عبد فليتأمل، والله أعلم“. (كتاب الزكاة: مطلب في زكاة ثمن المبيع وفاء: 213/3، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/244