کسی شخص نے وِگ پہنی ہو تو کیا اس کا غسل اور مسح ہوجاتا ہے یا نہیں؟

کسی شخص نے وِگ پہنی ہو تو کیا اس کا غسل اور مسح ہوجاتا ہے یا نہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے وِگ پہنی ہو، تو کیا اس شخص کا غسل اور مسح ہو جاتا ہے یا نہیں؟
نوٹ: وِگ وہ نقلی بال اور اس کا چمڑہ ہے، جو آج کل بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں اور غسل ومسح کے وقت نہیں نکالتے، لہٰذا تفصیلی جواب عنایت فرمائیں بمع حوالہ۔
وضاحت: کرنے سے معلوم ہوا کہ وِگ ٹوپی نما ہے، اس کو اتارا بھی جاسکتا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں چوں کہ وِگ سر میں پیوست نہیں ہے، بلکہ ٹوپی نما ہے کہ اس کو اتارا بھی جاسکتا ہے، لہٰذا اس کو ہٹا کر غسل میں پورے سر کا دھونا اور وضو میں سر پر مسح کرنا ضروری ہے، وگرنہ نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل۔
لما في بدائع الصنائع:
’’أما تفسيره: فالغسل في اللغة اسم للماء الذي يغتسل به؛ لكن في عرف الفقھاء يراد به غسل البدن، وقد مر تفسير الغُسل فيما تقدم؛ أنه الإسالة حتی لا يجوز بدونھا وأما ركنه: فھو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج مرة واحدة حتى لو بقيت لمعة لم يصبھا الماء لم يجز الغسل وإن كانت يسيرة؛ لقوله تعالى: ﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا﴾، أي: طھروا أبدانكم واسم البدن يقع على الظاهر والباطن فيجب تطھير ما يمكن تطھيره منه بلا حرج‘‘. (كتاب الطھارة، فصل في أحكام الغسل: 267/1، رشيدية)
وفي رد المحتار:
قوله: (ومسح ربع الرأس) المسح اللغة: إمرار اليد على الشيء، وعرفا: إصابة الماء العضو“. (كتاب الطھارة: 222/1، رشيدية)
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:
’’(يفترض في الغسل أحد عشر شيئا).... (والبدن) عطف عام على خاص ومنه الفرج الخارج؛ لأنه كفمھما لا الداخل، لأنه كالخلق، ولابد من زوال ما يمنع وصول الماء للجسد كشمع، وعجين“. (كتاب الطھارة: 102، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/181