کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کرکٹ یا دوسرے گیم کا ٹورنامنٹ (مقابلے) جب بنایا جاتا ہے تو جو ٹورنامنٹ کے منتظمین ہوتے ہیں وہ اس ٹورنامنٹ میں داخلے کے ہرٹیم سے ایک مختص رقم بطور انٹری فیس لیتے ہیں۔ اور اس ٹورنامنٹ کے جیتنے والی ٹیم کو ایک انعامی رقم بھی دیتے ہیں۔ (اشتہار میں یہ بات بطور خاص لکھی جاتی ہے کہ اس ٹورنامنٹ کی اتنی انٹری فیس ہے اور اتنی انعامی رقم) اور باقی رقم جو انٹری فیسوں سے بچ جاتی ہے وہ منتظمین خود لے لیتے ہیں۔ تو کیا یہ عمل جائز ہے؟
یادر ہے منتظمین کھیل میں استعمال ہونے والے ٹیپ بال، وکٹ وغیرہ خود مہیا کرتے ہیں، اسی طرح امپائرزوغیرہ کا انتظام بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح بال وغیرہ جب گراونڈ سے باہر چلا جاتا ہے، اسکو واپس لانے کا ذمہ بھی انکا ہوتا ہے۔ مطلب جملہ تمام انتظام وہ کرتے ہیں۔
الف۔ اگر وہ منتظمین خود بھی اس ٹورنامنٹ میں بطور کھلاڑی حصہ لے رہے ہو۔
ب۔ اگر منتظمین اس ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے رہے ہو۔
ازراہ کرم اس مسئلہ کے متعلق رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ عمل جوے میں داخل ہے، جو کہ شرعا نا جائز و حرام ہے، اس سے احتراز کرنا واجب ہے۔
لمافي الدر مع الرد:(وحرم لو شرط) فيھا (من الجانبين)؛ لأنه يصير قمارا (إلا إذا أدخلا ثالثا) محللا (بينھما).قوله : (لأنه يصير قمارا)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة، وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد؛ لأن الزيادة، والنقصان لا تمكن فيھما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط، فلا تكون مقامرة؛ لأنھا مفاعلة منه. (كتاب الحظر والإباحة، فصل البيع: 665/9، رشيدية)(وکذا فی بدائع الصنائع: 8 /350،349، دار الكتب العلمية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/171