کان سے وقتاً فوقتاً پیپ بہنے سے معذور ہونے کا حکم

کان سے وقتاً فوقتاً پیپ بہنے سے معذور ہونے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا کان خراب ہے جس سے اکثر پیپ آتا ہے، جو کان خراب ہے اگر سر اس طرف جھکاؤں تو فورا اس سے پیپ آتا ہے، ویسے دس، پندرہ، بیس منٹ کے درمیان ایک دفعہ پیپ آہی جاتی ہے، بسا اوقات وضو کرکے فورا پیپ آجاتی ہے، تو اس سے وضو کا کیا حکم ہے؟
وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ قریبا عرصہ چھ مہینے سے اس بیماری میں مبتلا ہے اور اس پوری مدت میں ایک مرتبہ بھی ایسا وقت نہیں آیا، جس میں نماز کے پورے وقت میں سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملا ہو، جس میں وضو کرکے نماز ادا کرسکے، اسی طرح پیپ نکلتے وقت کان میں درد، تکلیف وغیرہ بھی نہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں آپ شرعی معذور نہیں ہے اس لئے کہ ابتدا شرعی معذور بننے کے لئے ضروری ہے کہ نماز کے پورےوقت میں سے اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وضو کرکے نماز ادا کرسکے، لہذا جب بھی کان سے پیپ نکلے تو آپ پر وضو کرنا لازم ہوگا، چونکہ ایک گونہ مشقت ہے، اس لئے مفید تد بیر یہ ہے کہ کان میں روئی رکھ دی جائے، اگر روئی کا صرف اندرونی حصہ تر ہوجائے ظاہری حصہ نہیں، تو ایسی صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گااور اگر اندرونی حصہ کے ساتھ ساتھ ظاہری حصہ بھی تر ہوجائے تو پھر وضو ٹوٹے جائے گا۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه... وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة.(وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لانه الانقطاع الكامل‘‘.( كتاب الطهارة، مطلب في أحكام المعذور: 450/1، رشيدية)
وفيه أيضا:
’’(كما) لا ينقض (لو خرج من أذنه) ونحوها كعينه وثديه (قيح) ونحوه كصديد وماء سرة وعين (لا بوجع وإن) خرج (به) أي بوجع (نقض) لانه دليل الجرح.... (كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) ...(وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت، فإن رطبة انتقض وإلا لا. .‘‘.( كتاب الطهارة، مطلب في ندب مراعاة الخلاف إذا لم يرتكب مكروه مذهبه: 305/1، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 192/13