چوری کا جانور خرید کر قربانی کرنا

چوری کا جانور خرید کر قربانی کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے قربانی کے لیے کوئی جانور خریدا اور ذبح کرنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ جانور جس سے خریدا تھا اس نے تو چوری کیا تھا، اب کیا اس کی قربانی ہوگی یا نہیں؟ اور اگر مالک نے اجازت دے دی تو کیا حکم ہے؟ اور اگر قربانی کرنے سے پہلے پتہ چلا تب کیا حکم ہے؟

جواب

چوری کا مال چوں کہ چور کی ملک نہیں ہوتا، لہٰذا نہ اس کا خریدنا جائز ہے اور نہ ہی اس سے قربانی ادا کرنا، اگر علم نہ ہونے  کی وجہ سے خرید لیا، بعد میں معلوم ہوا تو خریدنے والے پر واجب ہے کہ مالک معلوم ہو نے کی صورت میں اس کو واپس کرے، بصورت دیگر مالک کی طرف سے اسے صدقہ کر دے اور چور سے اپنی ادا کردہ قیمت کا مطالبہ کرے، اور اگر مالک مل گیا اور اس نے  اجازت بھی دے دی تو قربانی کرنا درست ہے۔ لیکن اگر قربانی کرنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ جانور چوری کا تھا، تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں، اگر مالک نے اسے زندہ بکری کی قیمت کا ضامن بنایا تو قربانی درست ہو جائے گی اور اگر مالک نے جانور مذبوحہ حالت میں ہی لے لیا اور نقصان کا ضامن بنالیا، تو قربانی درست نہیں ہوگی، بلکہ دوبارہ قربانی کرنا ضروری ہے۔
لما في البدائع:
’’ولو باع السارق المسروق من إنسان أو ملكت (((ملكه))) منه بوجه من الوجوه، فإن كان قائما فلصاحبه أن يأخذه؛ لأنه عين ملكه، وللمأخوذ منه أن يرجع على السارق بالثمن الذي دفعه؛ لأن الرجوع بالثمن لا يوجب ضمانا على السارق في عين المسروق؛ لأنه يرجع عليه بثمن المسروق لا بقيمته؛ ليوجب ذلك ملك المسروق للسارق‘‘. (كتاب السرقة: 343/9، دار الكتب العلمية)
وفي رد المحتار:
’’قال في البدائع: غصب شاة فضحى بھا عن نفسه، لا تجزئه؛ لعدم الملك، ولا عن صاحبھا؛ لعدم الإذن، ثم إن أخذها صاحبھا مذبوحة وضمنه النقصان فكذلك لا تجوز عنھما، وعلى كل أن يضحي بأخرى، إن ضمنه قيمتھا حية تجزىء عن الذابح؛ لأنه ملكھا بالضمان من وقت الغصب بطريق الاستناد فصار ذابحاً شاة هي ملكه فتجزيه‘‘. (كتاب الأضحية: 547/9، رشيدية)
وفي الھندية:
’’لو غصب أضحية غيره وذبحھا عن نفسه وضمن القيمة لصاحبھا أجزأه ما صنع؛ لأنه ملكھا بسابق الغصب، كذا في الخلاصة لو غصب من رجل شاة فضحى بھا لا يجوز، وصاحبھا بالخيار إن شاء أخذها ناقصة وضمنه النقصان، وإن شاء ضمنه قيمتھا حية فتصير الشاة ملكاً للغاصب من وقت الغصب، فتجوز الأضحية استحساناً‘‘. (كتاب الأضحية: الباب السابع: في التضحية عن الغير: 303/5، ماجدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/211