کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے پیشاب کے بعد تقریبا 10 منٹ کے وقفہ کے دوران ایک دو قطرے مخرج پر نمودار ہو جاتے ہیں جبکہ میرا معمول ہے ان کے آنے تک میں پانی سے استنجا نہیں کرتا اور ان کو ٹشو سے پونچھ لیتا ہوں مزید یہ طریقہ بھی عرصہ دراز سے اختیار کیا ہے کہ نماز سے آدھا پو نا گھنٹہ پہلے پیشاب کر لیتا ہوں، جبکہ امامت کے فرائض بھی انجام دیتا ہوں۔
اب مسئلہ یہ آپ سے پوچھنا ہے کہ میں نے اپنے آپ لباس و جسم کو قطرات سے بہت اہتمام سے بچانا شروع کیا یعنی اس میں کچھ غلو کیا تو اب میرا مزاج شکی سا اور وہمی سا ہو گیا ہے ہر نماز سے پہلے اس بات کی ٹینشن سی لگ جاتی ہے، اور نماز سے پہلے استنجا کر کے وضو کر کے جماعت کرواتا ہوں تو ایک پر یشر سا اور خیال بہت تنگ کرنے لگتا ہے کہ کہیں اب نماز میں کچھ تری مخرج پر نمودار نہ ہو جائے وضو نہ ٹوٹ جائے، دوبارہ نماز کے لیے لوگوں میں اعلان کرنا ہو گا، تو ایک طرف تو غالب گمان اور یقین سا ہوتا ہے کہ اتنی جلدی میرا وضو نہیں ٹوٹ سکتا کیونکہ آدھا پونا گھنٹہ پہلے فراغت جو کی ہے، لیکن اپنے آپ کو اطمینان دینے کے لیے میں ہر جماعت کروانے کے بعد احتیاطا بیت الخلا میں سرخ ٹیشو کے ذریعے ملاحظہ کرتا ہوں تو اکثر و بیشتر کچھ تری نہیں مخرج پر ظاہر ہوئی ہوتی، لیکن بہت کم بعض اوقات شاذ و نادر سونی کے ناکے کے برابر تری دیکھائی دی گئی جبکہ اس کے نکلنے کا احساس تک نہیں ہوتا بہت معمولی ہونے کی وجہ سے تو پھر فورا اس نماز کے اعادے کا حکم نمازی حضرات کو دیا یا ممکن نہ ہوا تو اگلی نماز میں اعلان کرادیا۔
اب آپ مجھے اس معاملے میں کوئی شرعی طور پر رہنمائی کریں کہ میں کس طریقے سے اس حالت میں چلوں؟ میں بہت زیادہ حد سے بھی زیادہ پریشان ہوں اس وجہ سے، حکیم صاحب نے مجھے کہا کہ اتنا ہر بندے کے ساتھ ہوتا ہے دوائی نہ کھائیں۔ میں کیا کروں؟
صورت مسئولہ میں نماز سے آدھا، پون گھنٹہ پہلے آپ پیشاب وغیرہ کر لیں، اس کے دس، پندرہ منٹ بعد آپ وضوء بنالیں اور اپنی امامت جاری رکھیں، مزید ان تکلفات میں نہ پڑیں اور نہ ہی وساوس کی طرف دھیان دیں، ہاں اگر کبھی واقعتا پیشاب کے قطرات نکلنے کا احساس ہوتا ہو تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسے دیکھ لیں، اگر واقعتا قطرات نکلے ہوں، تو نماز کا اعادہ کروائیں، ورنہ نہیں۔لما في الأشباه والنظائر لإبن نجيم عليه الرحمة:’’القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك‘‘. (القاعدة الثالثة، ص: 60، قديمي)وفي الدرمع الرد:’’ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب لم يعتبر وتمامه في الأشباه‘‘.’’(قوله: ولو شك إلخ) من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فھو طاهر ما لم يستيقن‘‘.(كتاب الطھارة: 310/1، رشيدية)وفيه أيضا:’’يجب الاستبراء... ويختلف بطباع الناس ومع طھارة المغسول تطھر اليد؛ ويشترط إزالة الرائحة عنھا وعن المخرج إلا إذا عجز والناس عنه غافلون‘‘.’’(قوله: يجب الاستبراء إلخ)... أما نفس الاستبراء حتى يطمئن قلبه بزوال الرشح فھو فرض وهو المراد بالوجوب، ولذا قال الشرنبلالي: يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول ويطمئن قلبه. وقال: عبرت باللزوم لكونه أقوى من الواجب؛ لأن هذا يفوت الجواز لفوته فلا يصح له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال الرشح‘‘. (كتاب الطھارة، فصل في الإستنجاء: 614/1، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/218