نماز جنازہ میں مسبوق اور حاضر کی تکبیر کا حکم

نماز جنازہ میں مسبوق اور حاضر کی تکبیر کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فرض نماز کے بعد سنتیں ادا کر رہا تھا اور سنتوں کے آخری قعدہ میں تھا، اسی اثناء میں اس سے آٹھ دس قدم کے فاصلے پر نماز جنازہ شروع ہو گئی، یہ شخص سلام پھیر کر نماز جنازہ  میں شریک ہو گیا، اس وقت امام پہلی تکبیر کہہ چکا تھا اور ثناء پڑھ رہا تھا، اس شخص نے بھی تکبیر کہی اور امام کی دوسری تکبیر سے پہلے ثناء بھی پڑھ لی، سوال یہ ہے کہ اس شخص نے جنازہ کی تکبیر تحریمہ امام کے ساتھ نہیں بلکہ امام کے دو، تین سیکنڈ بعد کہی تو اس کی پہلی تکبیر معتبر ہوگی یا اس کو امام کے سلام کے بعد یہ تکبیر کہنی ہوگی؟
وضاحت: مذکور شخص نے آٹھ دس قدم کے فاصلے پر رہتے ہوئے امام صاحب کی اقتداء نہیں کی بلکہ صف میں شامل ہو کر امام صاحب کی اقتداء کی تھی۔

جواب

واضح رہے کہ نماز جنازہ میں حاضر وہ شخص ہے جو کہ نماز جنازہ کے وقت صفوں میں تو حاضر ہو، لیکن غفلت یا جنازہ کی نیت میں مشغول ہونے کی وجہ سے تکبیر تحریمہ کہنے میں اس سے تاخیر ہو جائے، ایسے شخص کے لئے بالا تفاق حکم یہ ہے کہ مذکورہ شخص امام صاحب کی دوسری تکبیر کا انتظارنہ کرئے، بلکہ فوراً تکبیر کہے اور نماز جنازہ میں شامل ہو جائے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مقتدی چاہے نماز جنازہ کے وقت صفوں میں حاضر ہو یا امام صاحب کی تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد آئے، بہر صورت فوراً تکبیر ہے اور نماز جنازہ میں شامل ہو جائے، یہی مفتی بہ قول ہے۔
اور چونکہ صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے امام صاحب کی تکبیر تحریمہ کے دو، تین سیکنڈ کے بعد ہی تکبیر کہی ہے، اور اتنی تاخیر عموما ہو ہی جاتی ہے، لہذا حاضر کے حکم میں ہونے کی وجہ سے پہلی تکبیر معتبر ہے، امام صاحب کے سلام کے بعد دوبارہ تکبیر کہنا ضروری نہیں ہے۔
لما في الدر مع الرد:
’’(والمسبوق) ببعض التكبيرات لا يكبر في الحال بل (ينتظر) تكبير (الإمام ليكبر معه) للافتتاح لما مر أن كل تكبيرة كركعة، والمسبوق لا يبدأ بما فاته. وقال أبو يوسف: يكبر حين يحضر (كما لا ينتظر الحاضر) في (حال التحريمة) بل يكبر اتفاقا للتحريمة، لأنه كالمدرك‘‘.
قوله: (كما لا ينتظر الحاضر إلخ) أفاد بالتشبيه أن مسألة الحاضر اتفاقية؛ ولذا قال: بل يكبر أي الحاضر اتفاقا، والمراد به من كان حاضرا وقت تحريمة الإمام في محل يجزئه فيه الدخول في صلاة الإمام كما يأتي عن المجتبى: أي بأن كان متھيئا للصلاة كما يفيده قول الھندية عن شرح الجامع لقاضي خان، وإن كان مع الإمام فتغافل ولم يكبر معه، أو كان في النية بعد فأخر التكبير فإنه يكبر، ولا ينتظر تكبير الإمام الثانية في قولھم لأنه لما كان مستعدا جعل بمنزلة المشارك‘‘. (كتاب الصلاة، مطلب هل يسقط فرض الكفاية بفعل الصبي، 134/3، رشيدية)
وفي غنية المستملي:
’’والمسبوق وهو من لم يحضر عند أول التكبير، إذا حضر لا يشرع ما لم يكبر الإمام تكبيرة، قال: حضوره، بخلاف من كان حاضرا عند تكبيرة سبقه الإمام بھا ، فإنه لا ينتظر، لأنه ضروري، إذ لا يمكن المقرنة إلا بحرج وهو مدفوع‘‘. (فصل في الجنائز، 587، سھیل اکیڈمی).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/319