میاں بیوی کے تنہائی کے لمحات اور بچوں کو سُلانے کی ترتیب

میاں بیوی کے تنہائی کے لمحات اور بچوں کو سُلانے کی ترتیب

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے معاشرے میں خاص طور پر جو غریب طبقہ ہے، ان کے پاس کمرے کم ہوتے ہیں، ماں باپ ایک یا دو کمروں کےگھرمیں رہ رہے ہوتے ہیں اور اپنے خاص لمحات میں یہ سوچ کر کہ بچے سورہے ہیں، مگر بچے جاگ رہے ہوتے ہیں، وہ اپنے ماں باپ کی گفتگو اور حرکات وسکنات کو محسوس کر رہے ہوتے ہیں، اور جوبچے بالغ یا قریب البلوغ ہوتے ہیں، ان کی شہوت فطری طور جوش مارتی ہے، پھر وہ غلط کاری جن میں مختلف امور شامل ہیں مبتلا ہوجاتے ہیں، بعض واقعات تو یہاں تک سننے میں آیا ہے کہ بہن بھائی ہی ایک دوسرے کے ساتھ غلط ہوجاتے ہیں، خاص طور پر وہ بچے جو بہن بھائی کے رشتے کے تقدس کو نہیں سمجھتے، وہ بس اپنے ماں باپ کی حرکات دیکھ کر ویسا ہی کرنے لگتے ہیں، بہر حال اس طرح کی بہت ساری خرابیاں پیدا ہوئی ہیں، پوچھنا یہ تھا کہ:
اگر ایک کمرہ ہے بچے ابھی پانچ چھ یا سات سال کے ہیں، تو میاں بیوی کو اپنے تنہائی کے لمحات میں کیا کرنا چاہیے؟
یا اسی طرح سات سال سے بڑے ہیں یا قریب البلوغ ہیں تو کیا صورت اختیار کی جائے؟
یا اسی طرح بچے بالغ ہیں کمرہ ایک ہی ہے تو کیا کیا جائے؟
یا کمرے تو دو ہیں ایک میں (ماں) بیوی، دوسرے میں بچے جن میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں قسمیں ہیں، تو ان بچوں کے سونے کی کیا ترتیب ہوگی؟
یا اگر بچے بالخصوص بچیاں علیحدہ سوتے ہیں، ڈریں تو کیا کیا جائے، کیا بہن بھائی علیحدہ کمرے میں سوسکتے ہیں، یا ماں باپ کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سو سکتے ہیں، جبکہ نیند کی حالت میں کپڑوں کا کھسک جانا، اعضاء کا ظاہر ہونا بھی شامل ہے، اس صورت میں بالغ بچوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سونا کیسا ہے، یا بہن بھائی کا ایک کمرے میں سونا کیسا ہے؟
اس بارے میں قرآن و سنت اور اسلاف کی تعلیمات سے رہنمائی فرمائیں، کیونکہ یہ عمومی مسئلہ ہے اس میں بے احتیاطی بھی بہت ہوتی ہے اور اس بے احتیاطی کے نتائج کے بارے میں میں نے شروع میں کچھ اشارے کردیے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں کمرہ ایک ہواور کم عمر اور ناسمجھ  بچے ہوں، تو ان کی موجودگی میں وظیفہ زوجیت اد کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائےکہ بچے سوچکے ہو ں، اگر ساتھ میں سمجھ دار یا بالغ بچے ہوں، تو وظیفہ زوجیت کے لیے الگ جگہ چلے جائیں، اگر اور جگہ نہ ہو تو ایسا وقت  متعین کریں، جس میں بچے موجود نہ ہو۔
بچوں کے سلانے کی ترتیب یہ رکھیں، کہ جو ناسمجھ بچے ہیں ان کو والدین اپنے ساتھ سلائیں، سمجھ دار اور بالغ بچوں کے لیے اگر اور جگہ ممکن ہو جیسے: نانی، دادی وغیرہ کے ہاں تو وہاں سلایا جائے، اور بستر الگ رکھے جائیں، اس طرح کہ لڑکوں کو ایک صف میں سلایا جائےاور لڑکیوں کو الگ صف میں۔
اگر اور جگہ ممکن نہ ہو تو والدین اپنے ساتھ اس ترتیب میں سلائیں کہ لڑکوں کو ایک طرف رکھا جائے اور لڑکیوں کو دوسری طرف۔
لما في حاشية ابن عابدين:
’’ويكره للرجل أن يطأ امرأته وعندها صبي يعقل أو أعمى أو ضرتها أو أمتها أو أمته‘‘.(كتاب النكاح، باب القسم، 385/4، رشيدية)
وفي بدائع الصنائع:
’’وأما المانع الطبعي:فهو أن يكون معهما ثالث لأن الإنسان يكره أن يجامع امرأته بحضرة ثالث ويستحي فينقبض عن الوطء بمشهد منه وسواء كان الثالث بصيرا أو أعمى يقظاأونائما بالغا أوصبيا بعد أن كان عاقلا رجلا أو امرأة أجنبية أو منكوحته لأن الأعمى إن كان لا يبصر فيحس والنائم يحتمل أن يستيقط ساعة فساعة فينقبض الإنسان عن الوطء مع حضوره والصبي العاقل بمنزلة الرجل يحتشم الإنسان منه كما يحتشم من الرجل وإذا لم يكن عاقلا فهو ملحق بالبهائم لا يمتنع الإنسان عن الوطء لمكانه ولا يلتفت إليه والإنسان يحتشم من المرأة الأجنبية ويستحي.
وكذا لا يحل لها النظر إليهما فينقبضان لمكانها وإذا كان هناك منكوحة له أخرى أو تزوج امرأتين فخلا بهما فلا يحل لها النظر إليهما فينقبض عنها وقد قالوا إنه لا يحل لرجل أن يجامع امرأته بمشهد امرأة أخرى‘‘.(كتاب النكاح، 525/3، رشيدية)
وفي تنوير الأبصار مع الدر المختار:
’’(ولا يجوز للرجل مضاجعة الرجل وإن كان كل واحد منهما في جانب من الفراش)قال عليه الصلاة والسلام:لا يفضي الرجل إلى الرجل في ثوب واحد، ولا تفضي المرأة إلى المرأة في الثوب الواحد وإذا بلغ الصبي أو الصبية عشر سنين يجب التفريق بينهما، بين أخيه وأخته وأمه وأبيه في المضجع لقوله عليه الصلاة والسلام: وفرقوا بينهم في المضاجع وهم أبناء عشر وفي النتف: إذا بلغوا ستا، كذا في المجتبى، وفيه: الغلام إذا بلغ حد الشهوة كالفحل‘‘.
وفي حاشية ابن عابدين:
’’قال في الشرعة ويفرق بين الصبيان في المضاجع إذا بلغوا عشر سنين ويحول ين ذكور الصبيان والنسوان وبين الصبيان والرجال فإن ذلك داعية إلى الفتنة ولو بعد حين.وفي البزازية إذا بلغ الصبي عشرا لا ينام مع أمه وأخته وامرأة إلا بامرأته أو جاريته.فالمراد التفريق بينهما عند النوم خوفا من الوقوع في المحذور فإن الولد إذا بلغ عشرا عقل الجماع ولا ديانة له ترده فربما وقع على أخته أو أمه فإن النوم وقت راحة مهيج للشهوة وترتفع فيه الثياب عن العورة من الفريقين فيؤدي إلى المحظور وإلى المضاجعة المحرمة خصوصا في أبناء هذا الزمان فإنهم يعرفون الفسق أكثر من الكبار‘‘.(كتاب الحظر والإباحة، 629/9، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 190/45