میاں بیوی کا اکٹھے جماعت سے نماز پڑھنے کا شرعی حکم اور مسئلہ محاذاۃ امرأۃ

میاں بیوی کا اکٹھے جماعت سے نماز پڑھنے کا شرعی حکم اور مسئلہ محاذاۃ امرأۃ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1…میاں بیوی دونوں کا اکٹھے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
2…اگر جائز ہے، تو کھڑے ہونے کی کیا نوعیت ہوگی؟
3…آیا فرض و نفل جماعتوں کا حکم یکساں ہے یا تفاوت ہے؟
4…اور کیا یہ مسئلہ محاذاۃ امرأۃ (جو کہ فقہ کا مشہور مسئلہ ہے) کے تحت آتا ہے یا نہیں؟
جواب بمع حوالہ بالتفصیل بیان کر کے عند اللہ مأجور اورعندالناس مشکور ہوں۔

جواب

1-3…صورتِ مسئولہ میں مرد اگر مسجد کی باجماعت نماز میں شریک نہیں ہوسکا، تو وہ گھر پراپنی زوجہ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ سکتا ہے۔
اور اس میں کھڑے ہونے کی صوت یہ ہوگی کہ خاتون مرد کے پیچھے صف میں ہوگی، اور یہ حکم فرض، واجب اور نفل سب کو یکساں طور پر شامل ہے۔
4… میاں بیوی کا مذکورہ طریقے پر نماز پڑھنے سے محاذاۃ کی صورت  نہیں پیش آئے گی۔
لما في التنوير مع الدر:
’’وقال: المرأة إذا صلت مع زوجها في البيت، إن كان قدمها بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتهما بالجماعة وإن كان قدماها خلف قدم الزوج... جازت صلاتهما‘‘.(كتاب الصلاة، 379/2، رشيدية)
وفي البدائع:
’’وإذا كان مع الإمام امرأة أقامها خلفه؛لأن محاذاتها مفسدة‘‘.(كتاب الصلاة، فصل في بيان من هو أحق بالإمامة: 678/1، رشيدية)
وفي حاشية الطحطاوي:
’’وفي القنية: الأصح أن إقامتها في البيت كإقامتها في المسجد، وإن تفاوتت الفضيلة،وعلى القول بأنها سنة هي آكد من سنة الفجر ...ووتر رمضان فإنها فيه مستحبة وأما وتر غيره، وتطوعه فمكروهة فيهما على سبيل التداعي.
قال شمس الأئمة الحلواني: إن اقتدى به ثلاثة لا يكون تداعيا فلا يكره إتفاقا‘‘.(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ص:286، رشيدية)
وفيه أيضا:
’’لو صلى في بيته بزوجته أو جاريته، أو ولده فقد أتى بفضيلة الجماعة... ولكن فضيلة المسجد أتم‘‘.(كتاب الصلاة، باب الإمامة،ص:286،رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 192/55