مغصوبہ چیز کی خرید و فروخت کا حکم

مغصوبہ چیز کی خرید و فروخت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی  نے کسی عورت سے تعلق بنا کر شرعی نکاح کر لیا، اور پھر اس عورت نے اپنے شوہر سے سات لاکھ قرض لے لیا۔ بعد میں یہ عورت اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنے والد اور بھائیوں کے پاس چلی گئی۔ شوہر نے کہا گھر آو۔ بیوی نہیں آئی، شوہر نے کہا کہ میرا سات لاکھ قرض دو عورت نے منع کردیا کہ نہیں دیتی۔ اور کہا کہ مجھے طلاق دو۔ اسی دوران عورت کے گھر والوں نے بھی اور بھائیوں نے بھی طلاق لینے کا مطالبہ کردیا۔ تو اس پر شوہر نے اپنے سسر کے مکان پر قبضہ کرلیا اور کہا کہ قبضہ تب چھوڑوں گا جب میرا سات لاکھ قرض ادا کرو گے، لیکن اس کی بیوی نے قرض ادا نہیں کیا اور انہوں نے بھی۔ اس شخص نے بار بار پیغام بھیجا کہ میرا سات لاکھ قرض ادا کرو ورنہ تو میں اس مکان کو فروخت کردوں گا، ان لوگوں نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا تو اس شخص نے مکان فروخت کردیا اور مکان کے پورے پیسے لے لیے اور پھر جس نے وہ مکان خریدا تھا، اس نے آگے فروخت کردیا اور پیسے کے لیے، اس طرح سے یہ مکان دو مرتبہ فروخت ہو چکا ہے اور اب موجود مالک مکان سے اسی مکان کو ایک محلے کے امام صاحب خرید رہے ہیں، تاکہ اس مکان میں مدرسہ بنایا جائے اب پوچھنا یہ ہے کہ ان امام صاحب کو اس مکان کو موجدہ مالک مکان سے رقم کے عوض خرید کر مدرسہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں اس آدمی کا قرضہ اپنی بیوی پر ہے، سسر پر نہیں، لہٰذا اس آدمی کے لیے اپنے سسر کے مکان پر قبضہ کرنا غصب ہے، اور مغصوبہ چیز کی خرید و فروخت تب جائز ہے، جب اس کا اصل مالک اس پر راضی ہو اور اس کی قیمت اس تک پہنچادی جائے، ورنہ خرید و فروخت کے باوجود اس کی حرمت منتقل ہوتی رہتی ہے اور ملکیت ثابت نہیں ہو گی، لہذا جب تک مذکورہ گھر کا اصل مالک اس کے بیچنے پر راضی نہ ہو، اور اس کی قیمت اس تک نہ پہنچائی جائے، اس وقت تک اس کی خرید وفروخت جائز نہیں، خواہ رہائش کے لیے ہو، یا مسجد و مدرسے کی تعمیر کے لیے ہو۔
لما فی الدر مع الرد:
”وأما الخبث لعدم الملك كالغصب فيعمل فيھما كما بسطه خسرو وابن الكمال... وفيه: الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه، بخلاف البيع الفاسد فإنه لا يطيب له لفساد عقده ويطيب للمشتري منه لصحة عقده. وفي حظر الأشباه الحرمة تتعدد“.
وتحته:
”(قوله:كالغصب:) وكالوديعة، فإذا تصرف الغاصب أو المودع في العرض أو النقد، يتصدق بالربح لتعلق العقد بمال غيره، وتمامه في الدرر......
(قوله:الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريبا (قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان المراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه، بخلاف المشتري شراء فاسدا إذا باعه من غيره بيعا صحيحا فإن الثاني لا يؤمر بالرد، وإن كان البائع مأمورا به لأن الموجب للرد قد زال ببيعه؛ لأن وجوب الرد بفساد البيع حكمه مقصود على ملك المشتري وقد زال ملكه بالبيع من غيره، كذا في شرح السير الكبير للسرخسي من الباب الخامس بعد المائة.
(قوله: ويطيب للمشتري منه لصحة عقده) فيه أن عقد المشتري في المسألة الأولى صحيح أيضا، وقد ذكر هذا الحكم في البحر معزيا للإسبيجابي بدون هذا التعليل، فكان المناسب إسقاطه، ثم اعلم أنه ذكر في شرح السير الكبير في الباب الثاني والستين بعد المائة: أنه إن لم يرده يكره للمسلمين شراؤه منه؛ لأنه ملك خبيث بمنزلة المشتري فاسدا، إذا أراد بيع المشترى بعد القبض يكره شراؤه منه وإن نفذ فيه بيعه وعتقه؛ لأنه ملك حصل له بسبب حرام شرعا. اهـ فھذا مخالف لقوله ويطيب للمشتري وقد يجاب بأن ما أخرجه من دار الحرب لما وجب على المشتري رده على الحربي لبقاء المعنى الموجب على البائع رده تمكن الخبث فيه فلم يطب للمشتري أيضا كالبائع، بخلاف البيع الفاسد فإن رده واجب على البائع قبل البيع لا على المشتري لعدم بقاء المعنى الموجب للرد كما قدمنا فلم يتمكن الخبث فيه فلذا طاب للمشتري، وهذا لا ينافي أن نفس الشراء مكروه لحصوله للبائع بسبب حرام؛ ولأن فيه إعراضا عن الفسخ الواجب، هذا ما ظھر لي.
(قوله: الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني: أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنفية: من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشھاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس، ثم يعطيه آخر، ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فھو حرام“. (باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما: 7 /307،306، رشيدية)
وفي بدائع الصنائع:
”ثم إذا ضمن المالك الغاصب قيمة المغصوب وقت الغصب أو وقت البيع والتسليم جاز البيع لأنه تبين أنه باع ملك نفسه والثمن له لأنه بدل ملكه“. (باب الغصب: 9/10، رشيدية)
وفيه أيضاً:
”ولو بيعت الدار في حياة الغاصب أو بعد وفاته كان صاحب هذه الأشياء أسوة الغرماء في الثمن، فلا يكون أخص بشيء من ذلك؛ لأن ملكه قد زال عن العين إلى القيمة، فبطل اختصاصه بالعين“. (كتاب الغصب: 31/10، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/287