کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص معذور ہے اور اس کے پاس تجارت کا کوئی ذریعہ نہیں اور کوئی ایسا فرد بھی نہیں جس پر اعتماد کر کے وہ پیسہ ان کے حوالے کر دے، اور اس معذور کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں، اب اس کے گزر بسر کے لیے کیا ایسا مجبور شخص اپنا پیسہ بینک اکاونٹ میں رکھ سکتا ہے؟ تا کہ بینک سے اس کو سود بھی ملتا رہے اور زندگی بھی گزرتی رہے، تو ایسی صورت میں گنجائش کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟
صورت مسئولہ میں بینک میں رقم جمع کر کے سود لینا جائز نہیں، کیونکہ سود قطعی حرام ہے، البتہ مذکورہ شخص برابر تلاش جاری رکھے، کہیں سے ان شاء اللہ ایسے با اعتماد افراد اس کو مل جائیں گے جن پر اعتماد کر کے اپنا مال تجارت کے لیے ان کے حوالہ کرے۔لما في التنزيل:﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾. (سورة البقرة، الآية:275)وفيه أيضا:﴿فإن لم تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِه﴾. (سورة البقرة، الآية: 279)وفي الصحيح لمسلم:عن جابر، قال: ((لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله وكاتبه، وشاهديه))، وقال: ((هم سواء)). (باب لعن آكل الربا ومؤكله: 27/2قديمي).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/79