کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو آدمی اس شرط پر مضاربت کرنا چاہتے ہیں کہ ایک کے ذمہ پیسے لگانا ہوگا اور دوسرے کے ذمہ محنت ہوگی، تمام اخراجات پیسے لگانے والے کے ذمے ہوں گے، قابل تحقیق بات یہ ہے کہ پیسے لگانے والے کے ذمے کیا محنت کرنے والے کے ملازم کی تنخواہ ہوگی یا دونوں کے ذمہ ہوگی؟ اور یہ نفع آدھا آدھا رکھنا چاہتے ہیں، ملازم کا کام سامان پیک کرنا اور ضرورت پڑنے پر فروخت کرنا ہوگا، محنت کرنے والا خود بھی فروخت کرے گا، لیکن محنت کرنے والے کی غیر موجودگی میں ملازم فروخت کرے گا، وضاحت فرمادیں نفع آدھا آدھا رکھیں یا 40 فیصد محنت کرنے والا رکھے اور 60 فیصد پیسے لگانے والا رکھے؟
صورت مسئولہ میں ملازم کی تنخواہ مضاربت سے حاصل شدہ منافع میں سے دی جائے گی، نیز نفع باہمی رضامندی سے جتنا مقرر ہو جائے درست ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ نفع فیصد کے حساب سے متعین ہو، اور عقد کے وقت نفع متعین کر لیا جائے۔لما في التنوير مع الدر:’’(هي عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب، وركنھا الإيجاب والقبول...... وشرطھا كون الربح بينھما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منھما معلوما) عند العقد‘‘. (كتاب المضاربة: 497/8، رشيدية)وفي التنوير مع الرد:’’ويملك الإيداع والرهن والارتھان والإجارة والاستئجار‘‘.’’(قوله: والاستئجار) أي: استئجار العمال للأعمال والمنازل لحفظ الأموال والسفن والدواب‘‘. (كتاب المضاربة: 503/8، رشيدية)وفي البحر الرائق:’’هي شركة في الربح بمال من جانب وعمل من جانب فلو شرط كل الربح لأحدهما لا يكون مضاربة ويجوز التفاوت في الربح وإذا كان المال من اثنين فلا بد من تساويھما فيما فضل من الربح حتى لو شرط لأحدهما الثلثان وللآخر الثلث فيما فضل فھو بينھما نصفين لاستوائھما في رأس المال‘‘. (كتاب المضاربة: 263/7، دار المعرفة).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/216