کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنے کاروبار میں میرا پیسہ =/8،00،000 (آٹھ لاکھ) لگائے اور مہینہ مجھے(35،000)ہزار دیں، تو یہ کام جائز ہے یا ناجائز، اگر ناجائز ہے تو طریقہ جائز بتا دیں۔
یہ معاملہ نا جائز ہے، اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ عقدِ مضاربت یا عقدِ شرکت اس طور پر کیا جائے کہ اس کی تمام شرائط کالحاظ ر کھا جائے، اور نفع آپس میں فیصدی اعتبار سے مقرر کیا جائے، مثلا: پچاس فیصد نفع آپ کا اور پچاس فیصد نفع میرا، یا بیس فیصد آپ کا اسّی فیصد میرا، نفع کی خاص مقدار (مثلا: ہزار آپ کا ہزار میرا) مقرر کرنا درست نہیں۔لما فی الدر مع الرد:’’(وكون الربح بينھما شائعا) فلو عين قدرا، فسدت (وكون نصيب كل منھما معلوما) عند العقد... وفي الجلالية: كل شرط يوجب جھالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها‘‘.’’قوله: (شائعا) أنصافا أو أثلاثا، مثلا: لتحقق المشاركة بينھما في الربح قل أو كثر. قاله في البرهان.وفي البحر الرابع: أن يكون الربح بينھما شائعا، كالنصف والثلث لا سھما معينا يقطع الشركة، كمائة درهم أو مع النصف عشرة، أي: لاحتمال أن لا يحصل من الريح إلا مقدار ما شرط له، وإذا انتفى الشركة في الربح لا تتحقق المضاربة؛ لأنھا جوزت بخلاف القياس بالنص بطريق الشركة في الربح، فيقتصر على مورد النص.قوله: (فلو عين قدرا فسدت)؛ لقطعه الشركة في الربح‘‘. (کتاب المضاربة، مطلب حيلة جواز المضاربة في العروض: 358/12، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/237