کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان قوم کی ایک عورت اپنی زندگی میں ہندوؤں کی طرح اپنے گھر میں مورتیاں وغیرہ رکھی ہوئی تھی، ان کی پوجاپاٹ کرتی تھی، رشتہ داروں کے منع کرنے کے باوجود اس سے باز نہیں آئی، ہندووں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ان کے رسم ورواج اختیار کرنے کو زیادہ ترجیح دیتی تھی، ہندو لوگوں کی آمد ورفت بھی اس کے پاس رہتی تھی، گذشتہ رمضان میں ایک دو روزے بھی رکھے، لیکن نماز نہیں پڑھتی تھی۔
دریافت طلب بات یہ ہے کہ آج اس کی موت ہوئی ہے، تو اس کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ کے متعلق کیا تفصیل ہے؟
واضح رہے کہ مذکورہ عورت کا مورتیوں کی پوجا پاٹ کرنے سے ایمان جاتا رہا ہے، اور چوں کہ اس کے بعد مذکورہ عورت نے تجدید ایمان بھی نہیں کیا تھا، اس لیے رمضان کے دو روزے رکھنے کی وجہ سے اس پر اسلام کا حکم نہیں لگے گا۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت پر تجہیز وتکفین اور تدفین کے حوالے سے مرتدہ کے احکام جاری ہوں گے یعنی بغیر سنت کی رعایت کرتے ہوئے تجہیز وتکفین اور تدفین اس طرح کی جائے کہ اس پر مطلقا پانی بہا دیا جائے، اور کسی کپڑے میں لپیٹ کر گڑھے میں ڈل دیا جائے اور اس پر جنازہ نہ پڑھا جائے۔لما في الدر مع الرد:”وفي الفتح: من هزل بلفظ الكفر إرتد، قوله:(من هزل بلفظ الكفر) أي تكلم به باختياره غير قاصد معناه، فھذا لا ينافي مامر أن الإيمان هو التصديق فقط أو مع الإقرار، لأن التصديق وإن كان موجوداً حقيقة لکنہ زائل حكماً، لأن الشارع جعل بعض المعاصی أمارة على عدم وجوده كالھذل المذكور، وكما لو سجد لصنم أو وضع مصحفًا في قاذورة فإنه يكفر وإن كان مصدقاً، لأن ذلك في حكم التكذيب“. (كتاب الجھاد، باب المرتد، 343/6، رشيدية)وفي البحر الرائق:”قال شمس الأئمة السرخسي: السجود لغير الله على وجه التعظيم كفر“. (كتاب الكراهية، 364/8، رشيدية)وفي رد المحتار:في الثانية: وإن صام الكافر أو حج أو أدى الزكاة، لا يحكم بإسلامه في ظاهر الرواية.... قال في (البحر) في باب التيمم: الأصل أن الكافر متى فعل عبادة، فإن كانت موجودة في سائر الأديان لا يكون به مسلماً كالصلاة منفرداً والصوم والحج الذي ليس بكامل والصدقة ومتى فعل ما اختص بشرعنا، فلو من الوسائل كالتيمم فكذلك، وإن كان من المقاصد أو من الشعائر كالصلاة بجماعة والحج الكامل والأذان في المسجد وقراءة القرآن يكون به مسلماً اليه أشار في (المحيط) وغيره“. (كتاب الصلاة، مطلب فيما يصير الكافر به مسلماً من الأفعال، 2/ 10، 11، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/241