مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیرنے سے نماز کا حکم

مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیرنے سے نماز کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام پر سجدہ  سہو لازم ہوجائے اور مقتدی جو کہ مسبوق ہے، وہ بھی اگر امام کے ساتھ  سجدہ سہو کا سلام پھیر دے اور اس کواس مسئلے کا علم نہ ہو کہ مسبوق امام  کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام نہیں پھیرے گا، تو کیا اس صورت میں مسبوق کی نماز فاسد ہوگی؟ زید کہتا ہے کہ چونکہ یہاں سلام جہالت کی بناء پر پھیرا ہے، لہذا اس بناء پر نماز فاسد ہونی چاہیے کیونکہ جہالت شریعت میں عذر نہیں ہے، زید کا بیان کردہ یہ مسئلہ اور اس کی دلیل کس حد تک درست ہے؟

جواب

اگر مسبوق عمداً امام کے ساتھ سلام پھیر دے، تو نماز فاسد ہوجائے گی، لیکن بھول کر سلام پھیرنے سےنماز فاسد نہ ہوگی، لیکن سجدہ سہو لازم ہے، نیز مسئلے سے ناواقفیت شریعت میں عذر نہیں، بالغ ہونے کے بعد نماز کے مسائل کا سیکھنا ضروری ہے۔
لمافي الرد:
قوله: (والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ.بحر. وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية‘‘.(كتاب الصلاة، باب سجود السهو، 659/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:190/242