مردوں کے لیے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

مردوں کے لیے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ کے ایک دوست نے موبائل میں ایک مفتی صاحب سے سنا ہے کہ مردوں کے لئے سینہ کے بال کاٹنا جائز ہے، کیا یہ مسئلہ صحیح ہے یا نہیں ؟ آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کی صحیح رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مردوں کے لئے سینہ کے بال صاف کرنا جائز ہے، لیکن خلاف ادب ہے۔
لما في رد المحتار:
’’وفي حلق شعر الصدر والظھر ترك الأدب، كذا في القنية‘‘. (کتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، 671/9، رشيدية).
وفي الھندية:
’’وفي حلق شعر الصدر والظھر ترك الأدب‘‘. (كتاب الحظر والإباحة، الباب التاسع عشر: 358/5، دارالفكر).
وفي الفتاوى التاتارخانية:
’’وفي اليتيمة: سألت أبا الفضل عمن حلق شعر، صدره، أو ظھره، هل له ذلك؟ فقال: هو تارك الأدب‘‘. (كتاب الحظر والإباحة، رقم:28541، فاروقية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/260