کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شعبہ حفظ سے قرآن مجید مکمل حفظ کرنے والے بچوں کے لیے امسال اسکول کا شعبہ بھی شروع کیا گیا ہے، (جس کا مقصد یہ ہے کہ اس شعبہ کے تحت پڑھنے والے بچے میڑک کے بعد آگے درس نظامی میں ترجیحی بنیادوں پر اسی مدرسہ میں، یا ان کی صوابدید پر دیگر مدارس میں چلیں، اس میں معاشرے کی روش کو دیکھتے ہوئے دونوں امکانات موجود ہیں کہ یہ بچے اس وقت مدرسہ کی لائن میں ہی چلتے رہیں، یا ماحول کے زیر اثر ہو کر اسکول وکالج والی لائن کو ہی اختیار کرلیں)۔
اس شعبے میں فی الحال ان کی قرآن مجید کی دہرائی، ان کی تجوید کی کلاس، ابتدائی دینی تربیتی نصاب اور انگلش میڈیم کے تحت سائنس مضامین پڑھائے جائیں گے، انتظامیہ کی طرف سے ان کے لیے ماہانہ چار ہزار فیس متعین کی گئی ہے، اس شعبہ میں فی الحال صرف چار طلباء ہیں، جو مدرسہ ہذا سے قرآن مجید مکمل کیے ہوئے ہیں، ان چار طلباء میں دو کی طرف سے مکمل چار چار ہزار اور ایک کی طرف سے دو ہزار وصول ہو رہے ہیں، جب کہ ایک طالب علم کی طرف سے کچھ بھی نہیں وصول ہورہا، ان بچوں کے اسکول کے مضامین کی خاطر تین ٹیچرز کا انتظام کیا گیا ہے، جن کی ماہانہ تنخواہ کل تیس ہزار روپے ہے، اب اس صورت میں بچوں کی طرف سے آمد دس ہزار روپے ہو رہی ہے اور بیس ہزار کی کمی کا سامنا ہے۔
مذکورہ تفصیل کے بعد معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اسکول کے ٹیچرز کی تنخواہوں (میں بیس ہزار) کی کمی کو مدرسہ کے وقف فنڈ سے پورا کیا جاسکتا ہے، یعنی دس ہزار بچوں سے وصول کی جانے والی فیس اور بیس ہزار مدرسہ کے وقف فنڈ سے لے کر ٹیچرز کی تنخواہ دی سکتی ہے یا نہیں؟
اسکول ٹیچرز کی تنخواہوں کو مدرسہ فنڈ سے ادا کرنا کہیں ”شرط الواقف کنص الشارع“ کے تحت ناجائز تو نہیں؟ کہ مدرسہ میں تعاون کرنے والوں کی اصل غرض تو مدرسہ کا تعاون ہوتا ہے نہ کہ اسکول کے مصارف کو پورا کرنا۔
اسکول کے شعبہ کے لئے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ کا انتظام کیا جائے، باقی اسکول کے اخراجات مدرسہ کے فنڈ سے ادا کرنے کے لئے مخیر حضرات کو زبانی یا رسید پر نمایاں طور پر لکھ کر مطلع کر دیا جائے۔لما في الرد:’’الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل، وقد أمره بالدفع إلى غيره، كما لو أوصى لزيد بكذا، ليس للوصي الدفع إلى غيره‘‘. (كتاب الزكاة: 269/2، دار الفكر).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/103