قضاء نمازوں کے عوض نوافل اور سنن غیر مؤکدہ کا ثواب حاصل ہوگا یا نہیں؟

قضاء نمازوں کے عوض نوافل اور سنن غیر مؤکدہ کا ثواب حاصل ہوگا یا نہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے ذمہ دو سال کی قضاء نمازیں ہیں، زید ان کی ادائیگی تہجد، اشراق، چاشت اور اوابین کے بجائے قضاء نمازیں پڑھتا ہے، ایسے ہی عصر و عشاء سے قبل سنن غیر مؤکدہ کے بجائے قضاء نمازیں پڑھتا ہے، آیا اس صورت میں زید کو تہجد، اشراق، چاشت، اوابین اورسنن غیر مؤکدہ کا ثواب بھی ملے گا، یا نہیں؟

جواب

قضاء نمازوں میں مشغول ہونا، نوافل و سنن غیر مؤکدہ میں مشغول ہونے سے افضل ہے، نوافل و سنن غیر مؤکدہ کا ثواب تو نہیں ملے گا، البتہ پڑھنے کی نیت ہو، تو انشاء اللہ نیت کا ثواب ملے گا۔
لما في الرد:
’’الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي رويت فيها الأخبار. اهـ. ط أي كتحية المسجد، والأربع قبل العصر والست بعد المغرب‘‘.(كتاب الصلاة، مطلب في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل، 646/2، رشيدية)
وفيه أيضا:
’’تنبيه: ظاهرمامرأن التهجد لا يحصل إلا بالتطوع؛ فلونام بعد صلاة العشاء ثم قام فصلى فوائت لا يسمى تهجدا‘‘. (كتاب الصلاة، مطلب في صلاة الليل، 567/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:190/246