کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سعودی حکومت سے عمرہ کے لئے تین ماہ کا ویزہ جاری ہوتا ہے اور ہر جگہ جانے کی اجازت ہوتی ہے ،اب بعض ساتھی یہاں سے عمرہ کے ویزہ پہ جا کر تین ماہ کے اندر حج بھی کرتے ہیں۔
پوچھنا یہ ہے کہ سعودی حکومت کا اس ویزہ پر حج کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر ہوتا تو کیا حکم ہے ؟دونوں صورتوں کا حکم واضح کریں۔
ایسی صورت حال میں اگر حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ہے، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق حج فرض نہیں ہوتا، صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک حج فرض ہو جاتا ہے، بشر طیکہ اس کے پاس حج کے مصارف واسباب موجود ہوں اور اس نے پہلے اپنا فرض حج ادا نہ کیا ہو، دونوں اقوال مصحح ہیں، البتہ صاحبین رحمہما اللہ کا قول احوط اور اکثر مشائخ کا اختیار کردہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص پابندی کے باوجود حج کرلے، تو بالاتفاق اس کا فرائضہ حج ادا ہو جائے گا۔
لہٰذا حکومت کی طرف سے پابندی کی صورت میں قانون کے خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے، البتہ اگر اس شخص کے پاس حج کے مصارف واسباب موجود ہوں اور اس نے پہلے اپنا فرض حج ادا نہ کیا ہو، تو اس شخص پر حج فرض ہو جائے گا اور جب وہ شخص حج ادا کر لے، تو اس کا فریضہ حج ادا ہو جائے گا۔لما في التنزيل العزيز:﴿ولا تلقوا بأيديكم إلى التھلكة﴾ (البقرة: 195)وقال أيضاً:﴿ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا﴾ (آل عمران: 97)وفي غنية الناسك:’’شروط وجوب الأداء... الأول: الصحة، وهي سلامة البدن من الآفات المانعة عن القيام بما لا بد منه في سفر الحج، وهذا عندهما، أما ظاهر المذهب عند الإمام أبي حنيفة رحمه الله فھي شرط الوجوب، فلا يجب الحج على المقعد والزمن والمفلوج.... يجب الحج عليھم إذا ملكوا الزاد والراحلة ومؤنة من يرفعھم ويضعھم ويقويهم على أداء المناسك... الثاني: عدم الحبس والمنع والخوف من السلطان الذي يمنع الناس من الخروج إلى الحج، والخلاف فيه الخلاف في صحة البدن، فالمحبوس والخائف من السلطان كالمريض‘‘. (فصل في شروط وجوب الأداء: 43 - 45، المصباح).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/229