کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عالمہ عورت کے لیے جیل میں قیدی عورتوں کو ناظرہ قرآن پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت: پوچھنے پر معلوم ہو اکہ عالمہ عورت اپنے گھر سے جیل میں پڑھانے آئے گی۔
اگر شرعی حدود کی رعایت ہو جیسے گھر سے نکلتے ہوئے مکمل باپردہ ہو، دن دن میں آنا جانا ہو، اجنبی مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو، خوشبو لگانے اور بننے سنورنے سے اجتناب ہو، پڑھائی کے دوران آواز اتنی ہو کہ اجنبی مردوں تک آواز نہ پہنچے، کوئی اور غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ ہو، تو بہت ہی فضیلت والا عمل ہے، دنیا وآخرت کی بھلائیوں کا سبب ہے، حدیث شریف میں ہے کہ: ’’خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘ (تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے)۔
ناظرہ قرآن کے ساتھ ساتھ دین کے بنیادی عقائد ومسائل کی تعلیم دی جائے، تو مزید خیر کا سبب ہوگا۔لما في سنن أبي داود:}خير كم من تعلم القرآن وعلمه{. (كتاب الصلاة، باب في ثواب قراءة القرآن: رقم الحديث: 1452).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/343