کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عالم سے یہ مسئلہ سنا ہے کہ اگر ظہر کی جماعت کا وقت قریب ہو اور چار رکعت سنت مؤکدہ ادا نہ کی جاسکتی ہو، تو اس صورت میں دو رکعت سنت مؤکدہ بھی ادا کرسکتے ہیں اور فرض کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ قضاء کی نیت سے لازم بھی نہیں ہوگی، یہ مسئلہ کس قدر صحیح ہے اور کیا واقعی شریعت میں اس کی گنجائش موجود ہے؟
صورت مسئولہ میں حنفیہ کے ہاں اس سے سنن مؤکدہ ادا نہیں ہوں گی، بلکہ فرض نماز پڑھنے کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ ادا کی جائیں۔لما في الصحيح المسلم:عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم: ’’يصلي قبل الظهر أربعا وبعدها ركعتين‘‘. (كتاب الصلاة، باب فضل السنن الراتبة، 289/2، دار إحياء التراث العربي)وفي الدرمع التنوير:’’(وسن) مؤكدا (أربع قبل الظهر)‘‘.(كتاب الصلاة، مطلب في السنن والنوافل، 545/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:190/241