طلاق کی مخصوص صورت میں ادائیگی مہر

طلاق کی مخصوص صورت میں ادائیگی مہر

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بیٹا جس کی آج سے دو سال پہلے منگنی ہوچکی ہے، جس میں نکاح بھی ہوا ہے، اور مہر 2 لاکھ اور دو تولہ سونا رکھا ہوا ہے۔ مہربانی کر کے بتا دیجئے کہ ہم کتنا مہر بحالت تنسیخِ نکاح ادا کریں گے، مہربانی کرکے ہمیں باقاعدہ تحریری طور پر بتادیں۔
وضاحت:سوال جمع کراتے وقت مستفتی کے بتانے پر معلوم ہوا کہ مستفتی نے اپنے بیٹے کا نکاح بلوغت سے پہلے کردیا تھا اور بعد البلوغ بیٹا نکاح پر رضامند رہا، مگر بعد میں وہ اس نکاح کو جاری رکھنے پر رضامند نہیں ہے، اب وہ خود اور ان کے والد بھی اس نکاح کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ اس نکاح کوختم کرنا چاہتے ہیں، تو آسان صورت یہ ہے خاتون کو طلاق دے دیں اور طلاق کے بعد آدھا مہر ان پر لازم ہوگا، بشرطیکہ خلوت نہ ہوئی ہو اور اگر ان کے درمیان خلوت (دونوں ایسی جگہ جمع ہوں کہ جہاں جماع سے کوئی رکاوٹ نہ ہو) ہوئی ہو، تو پورا مہر ادا کرنا ضروری ہے۔
لما في التنزيل:
﴿وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَافَرَضْتُمْ...إلخ﴾(سورة البقرة: 237)
وفي الدر:
’’ولو طلقها قبل الدخول تنصف المسمى‘‘.(كتاب النكاح، مطلب في أحكام الخلوة: 256/4،رشيدية)
وفيه أيضا:
’’فإنه يجب النصف بطلاق قبل وطء...(و)يجب(نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)‘‘.(كتاب النكاح، باب المهر:4 /224-226، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 190/181