طلاق کو گھر میں نہ آنے کے ساتھ معلق کرنا

طلاق کو گھر میں نہ آنے کے ساتھ معلق کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اہلیہ ناراض ہوکر میکے گئی ہوئی تھی ایک مہینے سے اوپر ہوگیا تھا میں نے انہیں دو مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے کہ’’اگر آپ کل تک نہ آ ئیں تو آپ کو طلاق‘‘ وہ اگلے دن نہیں آئی اور رات کو 9:30 بجے میں نے انہیں تیسری مرتبہ کہ دیا کہ ’’اگر آپ آج نہیں آئیں تو آپ کو تین طلاق‘‘ اور وہ اگلے دن مغرب سے پہلے گھر آگئی تو اس معاملے میں مفتیان کرام کی کیا رائے ہے رہنمائی فرمادیں کہ اب طلاق ہوگئی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب طلاق شرط کے ساتھ معلق کی جائے اور شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہوجاتی ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں پہلے دو طلاقیں شرط پائے جانے کی وجہ سے واقع ہوچکی ہے، اور تیسری مرتبہ شوہر نے بیوی کو رات 9:30 بجے کال کرکے طلاق دینے کو آج گھر آنے پر معلق کیا تھا اور بیوی اگلے دن مغرب سے پہلے آئی تو چونکہ عرف میں آج سے مراد اگلے دن سے پہلے پہلے آنا ہے، لہذا شرط پائےجانے کی وجہ سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ شوہر پر حرمت مغلظلہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اب بغیر حلالہ شرعیہ کے رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔
لما في التنزيل:
[فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ].(سورة النساء،230)
وفي حاشية إبن عابدين:
’’أما لفظ اليوم فيطلق على بياض النهار حقيقة اتفاقا قيل وعلى مطلق الوقت حقيقة أيضا... ثم اليوم إنما يكون لمطلق الوقت فيما لايمتد‘‘.(كتاب الطلاق، باب الصريح، 491/4، دارالفكربيروت)
وفي التنوير مع الدر:
’’الأصل أن الأيمان مبنية عندنا على العرف ما لم ينو ما يحتمله اللفظ‘‘.(كتاب الأيمان، 549/5، رشيدية)
وفيه أيضا:
’’الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأعراض‘‘.(كتاب الأيمان، 550/5، رشيدية)
وفي حاشية إبن عابدين:
’’قوله:(واعلم أن الليالي تابعة للأيام) أي كل ليلة تتبع اليوم الذي بعدها ألا ترى أنه يصلي التراويح في أول ليلة من رمضان دون أول ليلة من شوال‘‘.(باب الإعتكاف، 511/3، رشيدية)
وفي الهداية:
’’وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق‘‘.(كتاب الطلاق، الأيمان في الطلاق، 223/3، دارالسراج).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:193/90